خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 92 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 92

92 خاندانی وقف کی تحریک 5 جنوری 1945ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے خاندانی وقف کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: تحریک جدید کے پہلے دور میں، میں نے اس کی تمہید باندھی تھی۔مگر اب دوسری تحریک کے موقعہ پر میں مستقل طور پر دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح ہر احمدی اپنے اوپر چندہ دینا لازم کرتا ہے۔اسی طرح ہر احمدی خاندان اپنے لئے لازم کرے کہ وہ کسی نہ کسی کو دین کے لئے وقف کرے گا“۔نیز فرمایا:۔الفضل 10 جنوری 1945ء ص 5) ایمان کی کم سے کم علامت یہ ہونی چاہئے کہ ہر خاندان ایک لڑکا دئے“۔الفضل 10 جنوری 1945 ء ) سید نا حضرت مصلح موعودؓ کو اپنے دوسرے سفر یورپ 1955 ء کے دوران یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ مغربی دنیا تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہو رہی اور آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ وقت آگیا ہے کہ وقف زندگی کی تحریک کو پہلے سے زیادہ منظم ، مؤثر اور دائمی شکل دی جائے کیونکہ جب تک جماعت احمدیہ میں دین کی خدمت کرنے والے مسلسل اور متواتر پیدا نہ ہوں غلبہ اسلام کے اہم مقصد کی تکمیل ہرگز ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضور نے سفر یورپ سے واپسی کے بعد کراچی اور ربوہ میں جو ابتدائی خطبات ارشاد فرمائے۔ان میں بار بار وقف زندگی کی پُر جوش تحریک فرمائی۔چنانچہ 16 ستمبر 1955 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔” جب تک جماعت میں وقف کی تحریک مضبوط نہ ہو اس وقت تک ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ناممکن ہے وقف کی تحریک اسلام کی اشاعت کے لئے ایک عظیم الشان تحریک ہے۔اگر وقف کی تحریک مضبوط ہو جائے اور نسلاً بعد نسل ہماری جماعت کے نوجوان خدمت دین کے لئے آگے بڑھتے رہیں تو سینکڑوں نہیں ہزاروں سال تک تبلیغ اسلام کا سلسلہ قائم رہ سکتا ہے۔اس غرض کے لئے میں نے متواتر جماعت پر وقت کی اہمیت کو ظاہر کیا مگر اب میرا ارادہ ہے کہ جماعت سے خاندانی طور پر وقف اولا د کا مطالبہ کروں یعنی ہر خاندان کے افراد اپنی طرف سے ایک ایک نوجوان کو خدمت کے لئے