خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 91 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 91

91 اس عظیم الشان تحریک پر بھی مخلصین جماعت نے شاندار جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر قادیان اور بیرونی مقامات کے 335 مخلصین نے (جن میں ہر طبقہ، ہر عمر اور ہر قابلیت کے افراد شامل تھے ) اپنے آقا کے حضور وقف زندگی کی درخواستیں پیش کر دیں۔الفضل 11 مئی 1944 ء ص 6 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی اس تحریک پر نوجوانان احمدیت خدمت دین کے لئے جس طرح دیوانہ وار آگے بڑھے اور اپنی زندگیاں وقف کیں۔اس نے غیر مسلموں تک کو متاثر کیا۔چنانچہ اخبار پر کاش“ ( جالندھر) نے لکھا:۔آپ احمدیت تحریک قادیان کی طرف دھیان دیں اور آنکھیں کھولیں۔قادیان میں بڑے سے بڑے احمدی نے اپنے لخت جگروں کو احمدیت کی تبلیغ کے لئے وقف کر دیا ہے اور اس پیشہ کو بڑی آور کی درشٹی سے دیکھا جاتا ہے۔تحریک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے کیونکہ ان کے لیڈر عالم باعمل ہیں اور سپرٹ مخلصانہ ہے۔(بحوالہ الفضل 10 مئی 1947ء) اس تحریک کا غیر احمدی نوجوانوں پر کیا اثر ہوا ؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے صرف ایک مکتوب درج کیا جاتا ہے۔ایک غیر احمدی دوست اقبال احمد صاحب زبیری بی اے بی ٹی علیگ نے حضور کی خدمت میں لکھا:۔آپ کی جماعت میں ایک صاحب بنام مبارک احمد صاحب میرے ہم پیشہ دوست ہیں۔میرا اور موصوف کا قریباً دو اڑھائی سال سے ساتھ ہے اور ہمارے درمیان بہت گہرے اور مخلصانہ تعلقات قائم ہیں۔موصوف کے ساتھ دو جمعہ کی نمازوں میں شریک ہوا جبکہ علاوہ وقتا فوقتا الفضل پڑھنے کے آپ کا دیا ہوا خطبہ میں نے سنا۔وہ خطبے جو میں نے سنے ان میں سے دو قابل ذکر ہیں۔ایک جو ہندوستان اور برطانیہ کے مابین مصالحت کے متعلق تھا اور دوسرا جس میں آپ نے جماعت کے لوگوں سے زندگی وقف کر دینے کے لئے خدا اور اس کے رسول کی راہ میں تاکید فرمائی۔مبارک احمد صاحب نے تو آپ کی آواز پر فوراً لبیک کہا اور ان کا خط اور درخواست غالبا اس وقت آپ کے زیر غور ہوگی۔میں آپ کی جماعت کا باقاعدہ رکن تو اس وقت نہیں ہوں۔لیکن اللہ اور اس کے رسول کی خدمت کسی نظام کے ماتحت کرنے میں مجھے عذر بھی نہیں“۔تاریخ احمدیت جلد 8 ص 102)