خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 84
84 حضور نے اشاعت اسلام کے لئے صحابہ اور بزرگان دین کی طرف سے زندگیاں وقف کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعہ اسلام نے دنیا میں ترقی کی تھی اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی پسند فرمایا تھا۔حضرت صاحب کے وقت اس مسئلہ پر غور کیا گیا تھا اور آپ نے قواعد بنانے کے لئے سید حامد شاہ صاحب کو مقرر فرمایا تھا۔سید صاحب نے جو قواعد مرتب کر کے دیئے تھے وہ حضرت صاحب نے مجھ کو دیکھنے کے لئے دیئے تھے کہ درست ہیں یا نہیں۔تو میں نے عرض کیا تھا کہ درست ہیں۔حضرت صاحب نے بھی ان کو پسند کیا تھا۔ان قواعد پر عمل کرنے کے لئے تجویز ہوا تھا کہ دوستوں کو اپنی زندگیاں وقف کرنی چاہئیں تا کہ سلسلہ پر ان کا کوئی بوجھ نہ ہو اور وہ خود محنت کر کے اپنا گزارہ بھی کریں اور اسلام کی اشاعت میں بھی مصروف رہیں اور وہ ایک ایسے انتظام کے ماتحت ہوں کہ ان کو جہاں چاہیں۔جس وقت چاہیں بھیج دیں اور وہ فوراً چلے جائیں۔ان تجاویز کو حضرت صاحب نے پسند فرمایا تھا اس وقت کچھ لوگوں نے اپنی زندگی بھی کی تھی۔مگر پھر معلوم نہیں کہ کیا اسباب ہوئے کہ وہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا۔ابتدائے اسلام میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ پھیلا۔وہ لوگ چند آدمیوں کی جماعت بن کر مختلف اقطاع میں چلے جاتے تھے۔اپنے گھر بار چھوڑ دیتے تھے اور بال بچوں سمیت جدھر حکم ہوتا تھا۔چل کھڑے ہوتے تھے۔یہی وہ روح تھی۔جس نے اسلام کو ابتداء میں پھیلایا اور یہی وہ روح ہے جو حقیقی اسلام کی روح ہے۔ابتداء میں تبلیغ کا یہی رنگ تھا۔اور طریق بعد میں پیدا ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس کو پسند فرمایا ہے اور یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعہ ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔پس جب تک کام اس طرح نہیں ہوگا۔وہ کام انجام نہیں پائے گا۔جو ہمارے پیش نظر ہے۔پس ہمارے دوست اپنی زندگیاں وقف کریں اور مختلف پیشہ سیکھیں۔پھر ان کو جہاں جانے کے لئے حکم دیا جائے۔وہاں چلے جائیں اور وہ کام کریں جو انہوں نے سیکھا ہے۔کچھ وقت اس کام میں لگے رہیں تاکہ ان کے کھانے پینے کا انتظام ہو سکے اور باقی وقت دین کی تبلیغ میں صرف کریں۔مثلاً کچھ لوگ ڈاکٹری سیکھیں کہ یہ بہت مفید علم ہے۔بعض طب سیکھیں۔اگر چہ طب جہاں ڈاکٹری پہنچ گئی