خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 56 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 56

56 اگر دس کروڑ بادشاہ بھی آکر کہیں کہ ہم تمہارے لئے اپنی بادشاہتیں چھوڑنے کو تیار ہیں تم ہماری صرف ایک بات مان لو جو اسلام کے خلاف ہو تو تم ان دس کروڑ بادشاہوں سے کہہ دو کہ تف ہے تمہاری اس حرکت پر میں محمد مصطفے ﷺ کی ایک بات کے مقابل میں تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی بادشاہتوں کو جوتی بھی نہیں مارتا یہ ہے ایمان کی کیفیت۔جو شخص یہ کیفیت اپنے دل میں محسوس نہیں کرتا اس کا یہ دعوئی کہ اس کا ایمان پکا ہے ہم ہرگز ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے“۔تحریک حلف الفضول الفضل 30 جون 1942 ء ص 7,5,3) حلف الفضول“ ایک معاہدہ تھا جو حضرت رسول کریم علیہ کے زمانہ میں بعثت سے قبل ہوا جس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین فضل نام کے تھے اور اسی لئے اس کو حلف الفضول کہتے ہیں۔یہ معاہدہ عبداللہ بن جدعان کے مکان میں ہوا۔اس کے اولین اور پُر جوش داعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور خاندان کے سر براہ زبیر بن مطلب تھے اور طے پایا کہ ہم مظلوموں کو ان کے حقوق دلوانے میں مدد کیا کریں گے اور اگر کوئی ظلم کرے گا تو اس کو روکیں گے اور اس بات میں ایک دوسرے کی تائید کریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حمایت مظلوم کی اس تحریک میں بنفس نفیس شرکت فرمائی۔حضور عہد نبوت میں بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں عبداللہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدہ میں شریک ہوا کہ اگر آج اسلام کے زمانہ میں بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس پر لبیک کہوں۔سیدنا مصلح موعود کے قلب مبارک پر القاء کیا گیا کہ اگر اسی قسم کا ایک معاہدہ آپ کی اولاد بھی کرے اور پھر اس کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو خدا تعالیٰ ان کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان پر اپنا فضل فرمائے گا۔الفضل 22 جولا ئی 1944ء ص 2 کالم 3) اس الہام ربانی کی بناء پر حضور نے 4 جولائی 1944 ء کے خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ جماعت احمدیہ کے بعض افراد معاملات کی صفائی اور مظلوم کی امداد اور دیانت و امانت اور عدل و انصاف کے قیام کے لئے با قاعدہ عہد کریں۔حضرت سیدنا امصلح الموعودؓ نے ”حلف الفضول“ کی مبارک تحریک میں شمولیت کے لئے یہ شرائط المصل