خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 53 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 53

53 ارسال فرمایا اور اس مبارک تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بذریعہ مکتوب حسب ذیل ہدایات دیں ایک مضمون ارسال ہے۔اس کو فوراً شائع کروا ئیں۔اور پھر اس کے مطابق جو لوگ وصیتیں کریں ان کے نام اور جائیداد کی تفصیل مرکز کو بھجوائیں۔ایک مقبرہ کمیٹی قائم کریں جو زمین خریدے اور اس مقبرے کو بہت خوبصورت بنایا جائے۔باغ وغیرہ لگایا جائے۔میرے مضمون ” نظام نو“ کا انگریزی ترجمہ بھی جلد شائع کیا جائے اس میں تمام تفصیلات اس مضمون کی میں نے بیان کی ہیں۔وہاں کے لوگوں میں قادیان کی محبت اور قادیان کو واپس لینے کا جذ بہ بھی پیدا کر یں۔جن لوگوں کو خدا توفیق دے وہ ایسا انتظام کریں کہ ان کی وفات کے بعد قادیان ان کی نعش لے جائی جا سکے تو اس کا تاریخ احمدیت جلد 19 ص112) بہت اچھا اثر ہوگا۔جماعت انڈونیشیا کو نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک: حضرت مصلح موعودؓ نے امریکہ کے بعد اگلے سال 1956ء میں انڈونیشیا کی احمد یہ جماعتوں کو بھی نظام وصیت کی ترویج کی طرف توجہ دلائی جس کے خوشکن اثرات رونما ہونے شروع ہو گئے۔جس پر حضور نے 29 جون 1956ء کو خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا حضرت مسیح موعود نے وصیت کا نظام جاری فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت رکھ دی کہ باوجود اس کے کہ انجمن کے کام ایسے ہیں جو دلوں میں پیدا کرنے والے نہیں۔پھر بھی انجمن احمد یہ کا بجٹ تحریک جدید کے بجٹ سے ہمیشہ بڑھارہتا ہے۔کیونکہ وصیت ان کے پاس ہے اس سال کا بجٹ بھی تحریک جدید کے بجٹ سے دو تین لاکھ زیادہ ہے حالانکہ تحریک جدید کے پاس اتنی بڑی جائیداد ہے کہ اگر وہ جرمنی میں ہوتی تو ڈیڑھ دو کروڑ روپیہ سالانہ ان کی آمد ہوتی مگر اتنی بڑی جائیداد اور بیرونی ممالک میں تبلیغ کرنے کی جوش دلانے والی صورت کے باوجود محض وصیت کے طفیل صدر انجمن احمد یہ کا بجٹ تحریک جدید سے بڑھارہتا ہے۔اس لئے اب وصیت کا نظام میں نے امریکہ اور انڈونیشیا میں بھی جاری کر دیا ہے اور وہاں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ لوگ بڑے شوق سے اس میں حصہ لے رہے ہیں میں نے سمجھا کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ایک نظام ہے اگر اس نظام کو بیرونی ملکوں میں بھی جاری کر دیا جائے تو وہاں کے مبلغین کے لئے اور مساجد کی تعمیر کے لئے بڑی سہولت پیدا ہو جائے روز نامہ الفضل ربوہ 10 جولا ئی 1956ء)