خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 580 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 580

580 انٹرنیٹ وغیرہ کے مضر پہلوؤں سے بچنے کی تحریکات کمپیوٹر، انٹر نیٹ اور سینکڑوں رنگوں کی جدید ترین سائنسی ایجادات نے دنیا بدل کر رکھ دی ہے اور انسان کو راحت وسکون کے ساتھ باہم متحد کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے مگر افسوس ہے کہ انسانوں کی ایک بڑی بھاری اکثریت اس سے نقصان اٹھانے میں پیش پیش ہے۔چنانچہ 2006ء کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں فحاشی کی صنعت سے 57 ارب ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ویڈیو فلموں سے 20 ارب مخش رسالوں سے ساڑھے سات ارب پخش فون کال سروس سے ساڑھے چار ارب، انٹرنیٹ کی فحاشی سے اڑھائی ارب ڈالر ہی ڈی روم سے ڈیڑھ ارب ڈالر ، کلبوں سے 5 ارب ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ان کی کمائی دنیا کے تمام کھیلوں کی مجموعی آمد سے زیادہ ہے۔رپورٹ بتاتی ہے کہ اس وقت 42 لاکھ فحش سائٹس موجود ہیں روزانہ 7 کروڑ لوگ ان تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔روزانہ اڑھائی ارب فخش ای میلز ہوتی ہیں۔ہر ماہ ڈیڑھ ارب بخش صفحات لوگ اپنے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔جو کل مواد کا 35% ہے۔روزانہ کمپیوٹر پر ہونے والی چیٹ 89% ایسی ہوتی ہیں جن میں جنسی ترغیبات دی جاتی ہیں۔اس مکروہ کا روبار کا سب سے زیادہ شکار 8 تا 16 سال کی عمر کے 90% فیصد بچے ہیں۔روزانہ ایک کروڑ عورتیں ایسی فحش سائٹس پر جاتی ہیں۔( روزنامہ نوائے وقت 2 جون 2006ء) ان اعدادوشمار سے صاف ظاہر ہے کہ کس طرح عفت اور اخلاق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔اس کی ہزاروں مکر وہ مثالوں میں سے صرف ایک مثال راولپنڈی کی ہے۔مکروہ نیٹ کیفے : راولپنڈی شہر کی ایک مارکیٹ میں کسی صاحب نے نیٹ کیفے بنایا، انہوں نے چھوٹے چھوٹے کیبن بنائے ، ان میں کمپیوٹر رکھے اور کیبن کو دروازے لگا دیئے۔یہ دروازے اندر سے لاک ہو جاتے تھے، کیپینز کے اوپر انہوں نے لائٹیں لگائیں اور ان لائٹس میں خفیہ کیمرے چھپا دیے۔کیفے کھلا تو چند ہی روز میں وہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں آنا شروع ہو گئے۔یہ نوجوان جوڑوں کی شکل میں آتے۔کیبن میں جاتے اسے اندر سے بند کرتے ، کمپیوٹر پر گندی سائٹس دیکھتے۔کیفے کی انتظامیہ نو جوانوں کی