خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 579 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 579

579 نیز 24 دسمبر 2006ء کو مجلس عاملہ انصار الله جر منی کو ہدایات دیتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ:۔احمدی بچوں کو زیادہ سے زیادہ ریسرچ کے میدانوں میں آنا چاہئے اور اگلے پندرہ بیس سال میں اس تحقیق کے میدان میں احمدیوں کا بہت اچھا تناسب ہونا چاہئے تا کہ یہ ملک احمدیوں کو اپنے ملکوں میں رکھنے پر مجبور ہو جائیں۔محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے حوالہ سے حضور انور نے فرمایا کہ فزکس، کیمسٹری اور میڈیکل کے میدانوں میں بھی احمدیوں کو آگے آنا چاہئے۔اس ضمن میں حضور انور نے فرمایا کہ مجھے امید ہے اور میری دعا ہے کہ ڈاکٹر نعیم صاحب ایک دن انشاء اللہ نوبیل انعام حاصل کرلیں گے“۔الفضل 6 جنوری 2007 ء ص 5) ان سب ہدایات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کی توجہ تعلیم کی طرف بڑھ گئی ہے اور نادار طلباء کے لئے جماعت اپنی استطاعت کے مطابق بھر پور خرچ کر رہی ہے۔تعلیمی تمغہ جات تعلیمی تمغہ جات کی جو سکیم خلافت ثالثہ میں شروع کی گئی تھی اسے بھی بہت وسعت دی گئی ہے۔حضور نے جلسہ سالانہ قادیان 2005 ء کے موقع پر ہندوستان اور پاکستان کے 132 طلباء وطالبات کو تمغہ جات عطا فرمائے۔الفضل 30 جنوری 2006 ء ص 4,3 ) یہ سکیم کئی ممالک میں جاری ہو چکی ہے۔چنانچہ جلسہ برطانیہ 2007ء میں حضور نے متعدد طلباء اور طالبات کو میڈلز عطا فرمائے۔اسی طرح جلسہ سالانہ جرمنی 2007 ء کے موقع پر تقسیم انعامات کی تیسری تقریب میں حضور نے 55 طلباء اور 32 طالبات میں تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں میں اسناد اور میر تقیہ الفضل 13 ستمبر 2007 می 4,3) فرمائے۔