خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 578
578 ہیں۔اس وقت دنیا میں 120 کیمیکل پلانٹس بن رہے ہیں ،ان میں سے 50 چین میں ہیں۔(روز نامہ ایکسپریس یکم اگست 2006ء ) سائنسدانوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ 5لاکھ بچوں میں سے صرف 20 ہزار سائنس میں دلچسپی لیتے ہیں۔ان میں سے صرف دو سو ایم ایس سی کی سطح تک پہنچتے ہیں۔صرف 5 پی ایچ ڈی کر سکتے ہیں اور 100 پی ایچ ڈی کرنے والوں میں سے صرف ایک پروفیسر بین الاقوامی شہرت پاتا ہے جبکہ بین الاقوامی شہرت پانے والے دوسو پر و فیسروں میں سے کوئی ایک دنیا کونئی چیز بیانئی ایجاد پیش کرتا ہے۔(روزنامہ ایکسپریس 11 جنوری 2003ء) ان حالات میں حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ نے سائنسی تعلیم کے حصول کی طرف خصوصی توجہ دلائی اور مجلس خدام الاحمدیہ UK کے نیشنل اجتماع منعقدہ 17 ستمبر 2006ء کے موقع پر اختتامی خطاب میں فرمایا:۔۔۔۔۔۔۔آج آپ طلباء اگر یہ ارادہ کر لیں کہ سائنس کے میدان میں اتنا آگے بڑھنا ہے کہ آئندہ اس ملک کو سائنسدانوں کی جو ضرورت ہے وہ آپ نے پوری کرنی ہے تو یہ کے نام کو روشن کرنے والا ایسا کام ہو گا جس سے جیسا کہ میں نے کہا یہ تو میں مجبور ہوں گی کہ پھر یہ کے خلاف کوئی بات نہ کرسکیں گے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے جو بلی کے سال میں فرمایا تھا، کچھ سائنسدانوں کی تعداد بتائی تھی ، میرا خیال ہے سو یا کتنی کہ مجھے احمدی بچوں میں سے ایسے سائنسدان چاہئیں جو ڈاکٹر سلام صاحب کا مقام حاصل کریں۔تو ابھی تک تو وہ ہم حاصل نہیں کر سکے۔تو آپ لوگ جو ان ملکوں میں پڑھ رہے ہیں، ان ملکوں میں رہ رہے ہیں۔پڑھائی کی سہولتیں ہیں ، مواقع میسر ہیں، اس سے فائدہ اٹھائیں اور آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔(ماہنامہ نورالدین جرمنی ستمبر 2007 ء ص 1) پھر نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ جرمنی کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا :۔خدام الاحمدیہ یو۔کے کے اجتماع پر میں نے توجہ دلائی تھی اور کل انصار اللہ کی میٹنگ میں بھی انہیں کہا ہے کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی خواہش تھی کہ جو بلی کا سال جب آئے تو جماعت احمدیہ کو ڈاکٹر عبدالسلام صاحب جیسے سوسائنسدان چاہئیں۔تو ایسی صلاحیت رکھنے والے طلباء کو تلاش کریں ، ان کی راہنمائی کریں اور انہیں سائنس کے مختلف مضامین میں ریسرچ کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔(الفضل 6 جنوری 2007ء)