خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 564 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 564

564 طرح لوگ آگے آئیں اور ذمہ واری اٹھا ئیں۔اور اپنے بارے میں یہ فرمایا کہ میرے بعد میری اولاد امید کرتا ہوں اس کام کو جاری رکھے گی۔تو بہر حال آپ کو بھی دفتر نے توجہ نہیں دلائی یا ریکارڈ درست نہیں رکھا، ہو سکتا ہے کہ اپنے چندوں میں شامل کر کے آپ ان لوگوں کے لئے چندے دیتے رہے ہوں لیکن بہر حال ریکارڈ میں یہ بات نظر نہیں آرہی کہ آپ کا وعدہ تھا۔اس لئے ان کی اس خواہش کی تکمیل میں ان کا جو اکیس سالہ دور خلافت تھا جس حساب سے بھی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے فرمایا تھا، اپنے خطبے میں ذکر کیا تھا۔اب دفتر تحریک جدید کو میں کہتا ہوں کہ یہ حساب مجھے بھجوا دیں۔مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان کی اولا د اس کی ادائیگی کر دے گی۔جو بھی ان کا حساب بنتا ہے، ان ایک ہزار بزرگوں کا۔بہر حال اگر اولا د نہیں بھی کرے گی تو میں ذمہ واری لیتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ ادا کر دوں گا۔اور اسی حساب سے دفتر ایسے تمام لوگوں کے کھاتوں کے بارے میں مجھے بتائے جن کے کھاتے ابھی تک جاری نہیں ہوئے تاکہ ان کی اولادوں کو توجہ دلائی جاتی رہے۔لیکن جب تک ان کی اولادوں کی اس طرف توجہ پیدا نہیں ہوتی ، اسی حساب سے جو حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے فرمایا تھا کہ کھاتے ٹوکن کے طور پر زندہ رکھنے چاہئیں، ان لوگوں کی ادائیگی میں اپنے ذمے لیتا ہوں، انشاء اللہ تعالیٰ میں ادا کروں گا۔اور جب تک زندگی ہے اللہ تعالیٰ توفیق دے ادا کرتا رہوں گا اس کے بعد اللہ میری اولا د کو توفیق دے۔لیکن یہ لوگ جن کی قربانیوں کے ہم پھل کھا رہے ہیں۔ان کے نام بہر حال زندہ رہنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کی اولادوں کو توفیق دے“۔(الفضل 4 جنوری 2005ء) خطبہ جمعہ 11 نومبر 2005ء میں فرمایا:۔گزشتہ سال میں نے اعلان کیا تھا کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں یہ توجہ دلائی تھی کہ دفتر اول کے پانچ ہزار مجاہدین کے کھاتے کبھی مردہ نہیں ہونے چاہئیں۔ان بزرگوں کے لواحقین کو کوشش کرنی چاہئے ، ان کے ورثاء کو کوشش کرنی چاہئے کہ جو کھاتے ختم ہو گئے ہیں وہ دوبارہ زندہ ہوں لیکن اس وقت کیونکہ براہ راست سنے کا ذریعہ نہیں تھا اور ہر ایک تک خبر بھی نہیں پہنچی ہوگی۔شاید اسی لئے اس اعلان کے باوجود لوگوں نے اس طرف توجہ نہیں کی تھی۔لیکن گزشتہ سال میرے توجہ دلانے پر ان بزرگوں کی اولادوں نے بھی یا دوسروں نے بھی کافی رقوم بھیجی ہیں اور تقریباً ساڑھے تین ہزار کے قریب مردہ کھاتے زندہ ہو چکے ہیں اور یہ رقوم جو آئی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے