خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 559 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 559

559 حیثیت لوگوں میں بے تحا شا نمود و نمائش اور خرچ کرنے کا شوق ہوتا ہے۔شادیوں پر بے شمار خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔کئی کئی قسم کے کھانے پک رہے ہوتے ہیں جوا کثر ضائع ہو جاتے ہیں۔یہاں سے جب خاص طور پر پاکستان میں جا کر شادیاں کرتے ہیں اگر سادگی سے شادی کریں اور بچت سے کسی غریب کی شادی کے لئے رقم دیں تو وہ اللہ کی رضا حاصل کر رہے ہوں گے۔کھانوں کے علاوہ شادی کارڈوں پر بھی بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے۔دعوت نامہ تو پاکستان میں ایک روپے میں بھی چُھپ جاتا ہے۔یہاں بھی بالکل معمولی سا پانچ سات پینس (Pens) میں چھپ جاتا ہے۔تو دعوت نامہ ہی بھیجنا ہے کوئی نمائش تو نہیں کرنی۔لیکن بلا وجہ مہنگے مہنگے کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔پوچھو تو کہتے ہیں کہ بڑا ستا چھپا ہے۔صرف پچاس روپے میں۔اب یہ صرف پچاس روپے جو ہیں اگر کارڈ پانچ سو کی تعداد میں چھپوائے گئے ہیں تو یہ پاکستان میں چھپیں ہزار روپے بنتے ہیں اور پچیس ہزار روپے اگر کسی غریب کو شادی کے موقع پر ملیں تو وہ خوشی اور شکرانے کے جذبات سے مغلوب ہو جاتا ہے۔تو اس طرح بے شمار جگہیں ہیں جہاں بچت کی جاسکتی ہے۔اور جن کو اتنی توفیق ہے کہ وہ کہیں کہ ہم بچیوں کی شادیوں میں بھی مدد کر سکتے ہیں اس لئے ہمیں اس قسم کی چھوٹی بچت کی ضرورت نہیں ہے تو پھر ایسے لوگوں کو کم از کم جو خرچ وہ اپنے بچوں کی شادی پر کرتے ہیں اس کا ایک فیصد تو غریب کی شادی کی مدد کے لئے چندہ دینا چاہئے۔پاکستان میں بھی بہت سے لوگ ہیں جو بڑی فضول خرچی کرتے ہیں۔کچھ باہر سے جا کر کر رہے ہوتے ہیں اور کچھ وہاں رہنے والے کر رہے ہوتے ہیں۔یا جو فضول خرچی نہیں بھی کرتے ان کی ایسی توفیق ہوتی ہے کہ بچوں کی شادی میں مدد کر سکیں۔ان سب کو آگے آنا چاہئے اور اس نیک کام میں حصہ لینا چاہئے۔عموماً ایک غریبانہ شادی چھپیں تھیں ہزار روپے کی مدد سے ہو جاتی ہے۔کچھ نہ کچھ تو انہوں نے خود بھی کیا ہوتا ہے۔اتنی مدد ہو جائے تو لوگوں کی بڑی مدد ہو جاتی ہے۔تو پھر یہ غریب آدمی کے لئے سکون کا باعث بن رہی ہوتی ہے اور آپ کو دعاؤں کا وارث بنا رہی ہوتی ہے۔بہر حال ہر ایک کو حسب توفیق اس فنڈ میں ضرور حصہ لینا چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے۔مریم شادی فنڈ پہلے سے قائم تھا اس میں شمولیت کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا:۔میں بعض اور تحریکات کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں، ان کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ان میں (خطبات مسرور جلد 3 ص334)