خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 560
560 ایک تو مریم شادی فنڈ ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی یہ آخری تحریک تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بابرکت ثابت ہوئی ہے۔بیشمار بچیوں کی شادیاں اس فنڈ سے کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں۔احباب حسب توفیق اس میں حصہ لیتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شروع میں جس طرح اس طرف توجہ پیدا ہوئی تھی۔اب اتنی توجہ نہیں رہی جو لوگ مالی لحاظ سے اچھے ہیں، بہتر مالی حالات ہیں ان کو پتہ ہی نہیں کہ بچیوں کی شادیوں پر غریب لوگوں کے کتنے مسائل ہوتے ہیں۔(روز نامہ الفضل 6 دسمبر 2005ء ) امراء کو پہلے بھی کہہ چکا ہوں اب بھی کہتا ہوں دوبارہ تحریک کر دیتا ہوں کہ مریم شادی فنڈ میں ضرور شامل ہوا کریں اور خاص طور پر جو صاحب حیثیت ہیں اور جب ان کے بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں اس وقت ضرور ذہن میں رکھا کریں کہ کسی نہ کسی غریب کی شادی کروانی ہے۔روزنامه الفضل 28 فروری 2005ء ) حضور انور نے خطبہ عید الفطر 13 اکتوبر 2007ء میں فرمایا :۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی ایک تحریک تھی مریم شادی فنڈ کی، اس میں اگر باہر کے ملکوں میں رہنے والے چندہ دیں تو کئی غریب بچیوں کی شادی میں مدد ہو جاتی ہے، شروع میں مختلف ممالک سے چندہ وعدے ہوئے جو انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی خدمت میں پیش کئے لیکن وہ ایک دفعہ پیش کر کے ختم ہو گئے گو کہ جماعت اپنے وسائل کے لحاظ سے مدد کرتی رہتی ہے چاہے اس مد میں رقم ہو یا نہ ہولیکن پوری طرح پھر بھی نہیں کی جاسکتی اگر صاحب حیثیت اپنے بچوں کی شادیوں پر غریبوں کا خیال رکھیں تو جہاں اللہ تعالیٰ ان کو اللہ کی خاطر خرچ کرنے پر ثواب دے رہا ہو گا وہاں ان غریبوں کی دعاؤں سے ان کے اپنے بچوں کے گھروں میں بھی برکت پڑ رہی ہوگی کئی احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ہیں جن کو اس بات کا احساس ہے جو اپنے ایک بچے کی شادی پر دس غریب بچیوں کی شادی کا خرچ اٹھاتے ہیں، بعض فضول خرچ ہیں دو دو لاکھ روپے کا جوڑا بنا لیتے ہیں جبکہ اس رقم سے پانچ غریب بچیوں کا جہیز بن جاتا ہے تو ایسے لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر اتنے قیمتی جوڑے بنانے کی اللہ تعالیٰ نے انہیں وسعت دی ہوئی ہے تو پھر غریبوں کو کم از کم ایک مہنگے جوڑے کے برابر تو دے دیں تا کہ وہ بھی غریبوں کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں اور غریبوں کی دعائیں لے سکیں، یہ اتنے مہنگے