خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 523
523 مسیح موعود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جلد از جلد اس نظام وصیت میں شامل ہو جائیں۔اور اپنے آپ کو بھی بچائیں اور اپنی نسلوں کو بھی بچائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بھی حصہ پائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔مختلف طبقات کو دعوت ( الفضل 8 دسمبر 2005ء) جلسہ کے علاوہ بھی حضور نے متعدد مواقع پر اور جماعت کے مختلف طبقوں اور تنظیموں کو اس تحریک میں شمولیت کے لئے دعوت دی۔چنانچہ جلسہ برطانیہ کے بعد اگلے خطبہ جمعہ 6 اگست 2004 ء میں حضور نے جلسہ کے کامیاب انعقاد پر خدا تعالیٰ کے شکر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:۔اس شکرانے کے ضمن میں ایک اور بات بھی کہنی چاہتا ہوں کہ جلسے کی آخری تقریر میں میں نے احباب جماعت کو وصیت کرنے اور اس بابرکت نظام میں شامل ہونے کی طرف بھی توجہ دلائی تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں اور احباب جماعت نے ذاتی طور پر بھی اس سلسلہ میں وعدے کئے ہیں اور وعدے آ بھی رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے اور انہیں توفیق دے کہ وہ اس عہد کو جلد از جلد نبھا سکیں اور جتنی تعداد میں میں نے خواہش کی تھی اس سے بڑھ کر اس بابرکت نظام میں وہ شامل ہوں۔بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں جو دوسری جماعتی خدمات میں بعض دفعہ جب ان کو کوئی تحریک کی جائے تو پیش پیش ہوتے ہیں یا کم از کم اتنا ضرور ہوتا ہے کہ جتنا زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکتے ہیں اس میں حصہ لیں لیکن وہ نظام وصیت میں شامل ہونے سے محروم ہیں۔ان میں سے بھی کئی لوگوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اب اس نظام میں شامل ہوں گے۔ایسے صاحب حیثیت لوگوں کو ایسے احمدیوں کو تو سب سے پہلے چھلانگ مار کر آگے آنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل فرمائے ہیں۔ان کے شکرانے کے طور پر ہم اس نظام میں شامل ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے دروازے مزید کھلیں۔اللہ تعالیٰ نے جو ان پر نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان کا اظہار ہونا چاہئے اور وہ اپنے ذاتی اظہار کے۔قربانیوں کی طرف توجہ دینے کا بھی اظہار ہونا چاہیئے۔نیز فرمایا:۔نظام وصیت کو اب اتنا فعال ہو جانا چاہئے کہ سو سال بعد تقویٰ کے معیار بجائے گرنے کے نہ صرف