خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 524
524 قائم رہیں بلکہ بڑھیں اور اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں اور قربانیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں۔یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں۔جب اس طرح کے معیار قائم ہوں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ خلافت حقہ بھی قائم رہے گی اور جماعتی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی۔عہدیداران کو شمولیت کی تحریک الفضل 28 ستمبر 2004ء) 6 ستمبر 2004ء کو حضور نے سوئٹزر لینڈ مجلس عاملہ کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ سب سے پہلے اپنی مجلس عاملہ کو وصیت کے نظام میں شامل کریں۔اسی طرح دوسری جماعتوں کے عہدیدار بھی وصیت کے نظام میں شامل ہوں۔( الفضل 15 ستمبر 2004ء ص 3) 29 دسمبر 2004ء کو حضور نے فرانس میں نیشنل مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ کو ہدایات دیتے ہوئے وصیت کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ کتنے خدام ایسے ہیں جنہوں نے وصیت کی ہے۔حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ پہلے اپنی مجلس عاملہ سے شروع کریں۔جب تک عہد یدار خود وصیت نہیں کریں گے تو دوسروں کو کس طرح کہیں گے۔الفضل 8 جنوری 2005ءص2) 4 مئی 2005ء کو کینیا میں نیشنل مجلس عاملہ سے ملاقات میں حضور انور نے موصیان کی تعداد اور ان کے چندوں کا بھی جائزہ لیا اور ہدایات سے نوازا۔فرمایا مجلس عاملہ کے جن ممبران نے ابھی تک وصیت نہیں کی پہلے ان کو وصیت کے نظام میں شامل ہونا چاہئے۔پھر دوسروں کو اس نظام میں شامل کریں۔الفضل 18 مئی 2005 ء ص 3) 11 ستمبر 2005ء کو نیشنل مجلس عاملہ ڈنمارک کی میٹنگ میں سیکرٹری وصیت کو حضور انور نے ہدایت فرمائی کہ جو مرد زیادہ کماتے ہیں ان کو توجہ دلائیں کہ وہ وصیت کے نظام میں شامل ہوں۔حضور انور نے فرمایا تربیت اور اصلاح کے لئے موصیوں کی تعداد بڑھائیں۔(الفضل 30 دسمبر 2005ء) ذیلی تنظیموں کو مہم چلانے کی تحریک مجلس انصاراللہ یو۔کے کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے 26 ستمبر 2005ء کو