خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 36 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 36

36 36 خدمت خلق کی تحریکات غربا، مساکین اور طلباء کے لئے تحریک حضرت خلیفہ المسیح الاول کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جہاں کہیں رہے یتامی مساکین اور طالب علموں کے لئے ملا و ماویٰ بن کر رہے اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم الشان قوم کا امام بنایا آپ اس اہم کام سے کیونکر غفلت برت سکتے تھے۔آپ نے اس امر کو مد نظر رکھ کر سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ کو ارشاد فرمایا کہ یتامی ، مساکین اور طالب علموں کے لئے جماعت میں چندہ کی تحریک کی جائے۔اس پر سیکرٹری صاحب نے جو تحریک کی ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریب چار ہزار روپے کی رقم تو ان بیتامی ، مساکین اور طالب علموں وغیرہ کے گزارہ کے لئے چاہیئے ، جو اس وقت انجمن کے انتظام کے نیچے اس امداد کے مستحق ہیں۔اور اکیس سو روپے کی رقم ان یتامی ، مساکین وغیرہ کے ایک سال کے گزارہ کے لئے چاہیئے ، جن کی درخواستیں آئی ہوئی ہیں اور گواس روپے کا بالفعل کوئی اندازہ پیش نہیں کیا جا سکتا جو آئندہ درخواست کنندگان کے لئے درکار ہو گا مگر یہ ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ گنجائش اور بھی ہونی چاہئے۔پس مجھے ارشاد ہوا ہے کہ میں ان سب کے لئے تمام احمدی احباب کی خدمت میں اپیل کروں۔اکیس سو روپے کی رقم میں سے ایک سو روپیہ خود حضرت خلیفہ المسیح الاول نے اپنی طرف سے عطا فر مایا۔( بدر 21 جنوری 1909 ء میں 1 کالم نمبر (2) دار الضعفاء حضرت میر ناصرنواب صاحب نے باہمی محبت ومواساة اور اخوت پیدا کرنے کے لئے ایک مجلس ضعفاء کی بنیاد بھی رکھی جسے حضرت خلیفہ امسیح نے بھی پسند فرمایا۔اس مجلس میں سب کے سب غربا شامل تھے۔ہر آٹھویں روز مجلس کے ممبر اپنے اپنے گھروں سے کھانا لاتے اور ایک دستر خوان پر بیٹھ کر کھاتے تھے۔حضرت میر صاحب نہایت محبت و اخلاص کے ساتھ ان میں بیٹھتے اور اپنے غریب بھائیوں کی دلجوئی کرتے تھے۔(حیات ناصرص 26 )