خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 37
37 غربا کے لئے رہائشی مکانات کا ملناسخت مشکل تھا اس لئے حضرت میر ناصر نواب صاحب نے بہشتی مقبرہ کے ساتھ دار الضعفاء کا ایک حصہ آباد کر دیا۔اس محلہ کی بنیاد حضرت خلیفہ المسیح الاول نے 1911ء میں رکھی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بائیس مکانات کے لئے زمین عطا فرمائی۔پہلا مکان حضرت خلیفہ اول کے خرچ پر بنا۔بعد میں یہ محلہ ناصر آباد کے نام سے موسوم ہوا۔1913ء میر صاحب آپ نے ناصر آباد میں مسجد بھی تعمیر کرادی اور اس کے ساتھ ایک کنواں بھی بنوا دیا۔حیات نا صرص 25) حضرت خلیفہ المسیح اول نے حضرت میر صاحب کی انہی خدمات کے باعث انہی دنوں ، اپنے قلم سے ایک خط لکھا کہ آپ کے کاموں اور خواہشوں کو دیکھ کر میری خواہش بھی ہوتی ہے اور دل میں بڑی تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ جس طرح آپ کے دل میں جوش ہے کہ شفاخانہ زنانہ، مردانہ، مسجد اور دار الضعفاء کے لئے چندہ ہو، اور آپ ان میں سچے دل سے سعی و کوشش فرما رہے ہیں اور بحمد اللہ آپ کے اخلاص صدق وسچائی کا نتیجہ نیک ظاہر ہورہا ہے اور ان کاموں میں آپ کے ساتھ والے قابل شکر گزاری سے پر جوش ہیں، ہمارے اور کاموں میں سعی کرنے والے ایسے ہی پیدا ہوں۔الحکم 7 مئی 1909 ص 2) حضرت میر صاحب ہر ممکن کوشش کرتے تھے کہ غربا کی ضروریات بطریق احسن پوری ہوتی رہیں۔چنانچہ بدر 19 جنوری 1911ء میں اطلاع عام“ کے عنوان سے آپ کی طرف سے ایک نوٹ شائع ہوا۔جس میں آپ فرماتے ہیں: جس قدر احمدی جماعت ہے۔اس پر واضح ہو کہ قادیان میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضعفا، تعلیم دین کے لئے جمع رہتے ہیں۔جن کا گزارہ فقط تو کل پر ہوتا ہے۔روٹی لنگر مسیح سے مل جاتی ہے۔لیکن کپڑے و دیگر حوائج ضروری جیسے دھوبی، نائی وغیرہ کے لئے کچھ نہ کچھ کپڑے یا نقد کی بھی انہیں ضرورت پڑتی ہے۔جس کے لئے اس عاجز یعنی ( ناصر نواب) نے کوشش کا ذمہ لیا ہے۔چنانچہ بعض احباب نے ان غر با وضعفاء کا حال معلوم کر کے اس عاجز کو ان کی خدمت کے لئے تھوڑا بہت ماہوار یا سالانہ دینا منظور فرمایا ہے۔نیز قادیان کے احمدیوں نے ضعفاء کے لئے چندہ دینا شروع کر دیا ہے۔حضرت صاحب کے انتقال کے بعد یہ کام اس عاجز نے شروع کیا ہے اور اس کام میں مجھے تھوڑی بہت