خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 494
494 میں دکانیں بند کر کے نمازیں ہوا کرتی تھیں۔گو کہ مجھے اس شخص کی بات پر اتنا یقین تو نہیں آیا۔میں تو ربوہ کے بارے میں حسن ظن ہی رکھتا ہوں لیکن اگر اس میں سستی پیدا ہو رہی ہے تو وہاں کے رہنے والوں کو اس طرف خود توجہ کرنی چاہئے۔ایک کوشش جو آپ نے کی تھی، نیکیوں کو اختیار کرنے کا جو ایک قدم بڑھایا تھا وہ قدم اب آگے بڑھتا چلا جانا چاہئے۔اللہ کرے کہ میرا حسن ظن ہمیشہ قائم رہے۔اسی طرح عمومی طور پر پاکستان میں بھی اور دنیا کی ہر جماعت میں جہاں جہاں بھی احمدی آباد ہیں، نمازوں کے قیام کی خاص طور پر کوشش کریں۔ہمیشہ یادرکھیں کہ افراد جماعت اور خلیفہ وقت کا دوطرفہ تعلق اس وقت زیادہ مضبوط ہو گا جب عبادتوں کی طرف توجہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو پاک نمونے پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔( افضل 29 مئی 2007 ء ص 5۔4 ) 13 ستمبر 2005ء کو سیکرٹری صاحب تربیت سویڈن کو ہدایت دیتے ہوئے سید نا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔آپ اپنی اصلاحی کمیٹی کو بھی Active کریں۔اصلاح کا کام بہت بڑا ہے۔کسی کی اصلاح کرنے میں ہر گز جھکنا نہیں بلکہ چار ہزار دفعہ بھی کہنا پڑے تو کہیں۔نہ جھکنا ہے اور نہ مایوس ہونا ہے۔نرمی سے سمجھاتے چلے جانا ہے۔الفضل 30 ستمبر 2005 ء ص 6) اسی طرح 3 مئی 2006ء کو سیکرٹری صاحب تربیت نجی سے ان کے پروگراموں کا جائزہ لیتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:۔نماز با جماعت کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔آپ نے یہ جائزہ لینا ہے کہ کتنے لوگ آتے ہیں اور پانچوں نمازوں پر کیا حاضری ہوتی ہے۔نمازوں کی حاضری بڑھا ئیں۔جو نمازوں پر پہلے آتے تھے لیکن اب نہیں آتے ان کا پتہ کریں کہ کیا وجہ ہے۔سب جماعتوں میں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔آپ اس سلسلہ میں جو کوشش کر رہے ہیں۔اگر جماعتوں سے اس کے نتیجہ کا آپ کو علم نہیں ہوگا تو آپ اپنا آئندہ کا پروگرام نہیں بنا سکتے“۔الفضل 22 مئی 2006 ء ص 5) 3 مئی 2006ء کو نیشنل مجلس عاملہ نجی کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا:۔گہرائی میں جا کر جائزہ لینا ہو گا کہ ہر جماعت میں کتنے لوگ ہیں جو نمازیں نہیں پڑھتے اور گھر میں بھی نماز نہیں پڑھتے۔ان کا جائزہ لیں۔پھر ان کی تربیت کے لئے پروگرام بنائیں۔جو گھر میں نماز