خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 495 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 495

495 نہیں پڑھتا اس کو گھر میں تو نماز پڑھائیں“۔الفضل 22 مئی 2006 ءص5) بچوں کو نماز پڑھنے اور سلام کی عادت کی تحریک حضور نے 7 جون 2003ء کو لندن میں چلڈرن کلاس میں بچوں سے خطاب کرتے ہوئے ربوہ کے اطفال کے نام حسب ذیل پیغام دیا:۔ربوہ کے بچے ماشاء اللہ آپ لوگوں کی طرح بہت ہی پیارے بچے ہیں۔ان کے بارے میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ احمدیوں کو سلام کو رواج دینا چاہئے یعنی ہر احمدی کو یہ عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ ہر ملنے والے کو سلام کہے اور اس کے لئے حضرت صاحب نے قادیان کی مثال دی تھی کہ وہاں ہر بڑا چھوٹا سلام کہتا تھا اور ایک بہت پیارا اور محبت والا ماحول تھا تو عمومی طور پر حضرت صاحب نے سارے بچوں کو اور بڑوں کو یہ کہا تھا کہ جب آپس میں ملیں تو سلام کہیں ، خوش اخلاقی سے ملیں، لیکن ربوہ کے بچوں کو خاص طور پر کہا تھا کہ وہاں کا ماحول ایسا ہے کہ سلام کی عادت ڈالیں۔تو ربوہ کے بچوں کے لئے یہی میرا پیغام ہے کہ ربوہ کے ماحول کو ایسا بنادیں کہ ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آرہی ہوں، بڑے بھی چھوٹے بھی بچے بھی۔بعض دفعہ بڑوں سے سستیاں ہو جاتی ہیں تو بچے اس کی پابندی کریں کہ انہوں نے بہر حال ہر ایک کو سلام کہنا ہے اور سلام کرنے میں پہل کرنی ہے تو اس طرح ربوہ کے ماحول پر بڑا خوشگوار اثر پڑے گا۔انشاء اللہ ایک تو یہ بات ہے۔دوسرے مساجد کو آباد کرنے کے لئے جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی خواہش تھی کہ نئی صدی میں ہر گھر نمازیوں سے بھر جائے تو یہاں بھی آپ نمازیں پڑھنے کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور دیں اور ربوہ کے ماحول میں جو خالصہ احمدیت کا ماحول ہے بچوں کو چاہئے کہ اپنے بڑوں کو بھی توجہ دلائیں اور خود بھی خاص توجہ کریں اور مساجد میں زیادہ سے زیادہ جائیں اور مساجد کو آباد کریں تا کہ احمدیت کی فتح کے نظارے جو دعاؤں کے طفیل ہمیں انشاء اللہ تعالیٰ ملنے ہیں ، وہ ہم جلدی دیکھیں۔(الفضل 12 جون 2003ء ) اسی طرح خطبہ جمعہ 3 ستمبر 2004ء میں فرمایا:۔پاکستان میں تو ہمارے سلام کہنے پر پابندی ہے، بہت بڑا جرم ہے۔بہر حال ایک احمدی کے دل