خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 480 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 480

480 سے بھی عالمگیر ہے۔اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے ایم ٹی اے کے مرکز لندن کے علاوہ تمام دنیا میں ہزاروں رضا کار پروگرام بنانے میں مصروف عمل ہیں اور بیشمار برکات سے جھولیاں بھر رہے ہیں۔حضور نے فرمایا:۔مثال کے طور پر مجھے خیال آیا کہ اگر دنیا میں جہاں جہاں بھی احمدی مختلف نیشنیلٹی کے لوگ موجود ہیں اگر ان کے مربی ان پر کام کر کے ان میں سے اچھی آواز والے مرد تلاش کریں تو بیشمارمل جائیں گے عورتیں ہی ضروری تو نہیں جتنی نیشنیلیٹیز (Nationalities) ہوں اتنا ہی زیادہ بہتر ہے۔اس طرح ہر زبان میں حضرت مسیح موعود کا کلام پڑھا جائے گا۔یہ آئیڈیا ہے جو اس سے مجھے بہت پسند آیا ہے۔لندن میں بھی یہ ہو سکتا ہے لندن والے خدام اور انصار یہاں کوشش کر لیں اور لجنہ والیاں بھی یہاں کوشش کر لیں Maximum Nationalities کی نمائندگی ہو جائے۔ہوسکتا ہے کہ یہ سلسلے پھیلتے پھیلتے دنیا کے ہر ملک میں پھیل جائے اور حضرت مسیح موعود کی ہر زبان میں اچھی آواز میں نظمیں پڑھی جائیں۔(اردو کلاس 26 مئی 1999 ء۔الفضل 14 مئی 1999ء) اردو میں کارٹون بنانے کی تحریک: 28 مئی 1999ء کو حضور نے ایم ٹی اے کے لئے اردو زبان میں کارٹون بنانے کی تحریک فرمائی جس کا ایک مقصد تربیت کے ساتھ اردو سکھانا بھی تھا۔فرمایا: ” میں نے سوچا کیوں نہ ہم اپنے کارٹون بنائیں۔اردو کارٹون اور اردو کارٹون بچے غور سے دیکھیں گے۔ایم ٹی اے پر لگیں گے تو ان کو آپ ہی آپ اردو آئے گی۔مجبور ہوجائیں گے۔اور اردو کارٹونوں میں ایسا سبق ہو۔کسی کارٹون میں بھی Violence نہ ہو۔یعنی بچوں میں کارٹون دیکھ کے طبیعت میں نرمی پیدا ہو۔پیار پیدا ہو۔کمزوروں کی ہمدردی پیدا ہو اس قسم کے کارٹون بہت سے میں نے سوچے ہیں۔لیکن میں دعوت دیتا ہوں انگلستان میں جتنے بھی دانشور موجود ہیں اور جن کو کمپیوٹر گیمز کا بھی پتہ ہے۔ایک تو مشورہ یہ ہے کہ جو کمپیوٹر سپیشلسٹ ہیں ان کو استعمال کیا جائے اور کمپیوٹر کے بنائے ہوئے کارٹون بنائیں۔اب کارٹون لکھنے کے لئے بھی تو ایک سکرپٹ چاہئے۔جس کی مزاح کی روح بھی اچھی ہو۔ہنسنے