خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 470
470 ہے کہ اس کی اتنی باریکیاں ہیں کہ ان پر غور کرنے سے انسان خدا کی ہستی کا لازماً قائل ہو جاتا ہے۔نا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے بغیر یہ شفا کا مضمون سکھایا جاتا۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے اس مضمون پر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ہومیو پیتھک علاج کے لئے تحقیق ہونی چاہئے پورے غور وفکر کی ضرورت ہے۔اس کے دوحل ہیں۔ایک تو یہ کہ جو میری کتاب ہے ہو میو پیتھی کی وہ آپ خود لے لیں اور اس میں اشارے موجود ہیں ان کو دیکھ کر خود اپنا مطالعہ کریں۔سب سے بہتر علاج انسان خود کر سکتا ہے جو جانتا ہے کہ مجھے کیا بیماری ہے لیکن جن کو یہ سلیقہ نہیں اور اکثر کو نہیں ہے، بہت مشکل کام ہے کہ ہو میو پیتھک علاج کرنے کے لئے کوئی خود کتاب سے فائدہ اٹھا سکے۔اس لئے ان کے لئے دنیا بھر میں خدا تعالیٰ کی رحمانیت کی مظہر ڈسپلنریاں قائم کر دی گئی ہیں جو بلا مبادلہ کام کرتی ہیں۔اس کثرت سے ڈسپنسریاں قائم ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ اب دنیا میں کتنی بیشمار ڈسپنسریاں قائم ہیں جو بنی نوع انسان کا علاج کرتی ہیں مگر محض رحمانیت کے طور پر۔اس کا کوئی متبادل نہیں لیتیں، مفت کی ڈسپنسریاں ہیں اور ان میں لوگ وقف ہیں۔۔۔اب میں آپ کے سامنے ایک مختصر فہرست رکھتا ہوں کہ کس کثرت کے ساتھ دنیا میں احمدیت کے طفیل مفت علاج کی سہولتیں موجود ہیں۔ہندوستان ، جرمنی، امریکہ، کینیڈا غرضیکہ دنیا بھر کے ممالک میں یہ ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں۔اب امراء کا فرض ہے کہ وہ احباب جماعت کو واقفیت کروائیں۔اب امریکہ سے، لاس اینجلس سے جو خط آتے ہیں کہ میرا علاج کریں وہیں لاس اینجلس میں ہی ہمارے مربی موجود ہیں جو ہومیو پیتھک علاج کر سکتے ہیں۔اڑیسہ سے خط آتا ہے وہاں بھی نظام جماعت مقرر ہے کوئی نہ کوئی ہو میو پیتھک ڈسپنسری موجود ہے جو بلا مبادلہ ان کی خدمت کے لئے تیار ہے۔اب ربوہ میں تو کثرت سے ہیں اور ربوہ سے بھی خط آتے ہیں۔عجیب بات ہے کہ ان کو یہ نہیں پتہ کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہو میو پیتھک کلینک با معاوضہ بھی موجود ہیں، بہت سے معاوضہ لے کر کرتے ہیں لیکن جماعت کی طرف سے مفت علاج کی اتنی سہولتیں ہیں کہ دنیا کے کسی شہر میں یہ سہولتیں نہیں ہوں گی۔۔ملک کے امیر کا فرض ہے کہ وہ تمام جماعتوں کو مطلع کرے کہ آپ کے قریب ترین کون سی ڈسپنسری ہے جس سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں اور اگر اس شہر میں نہیں ہے تو شہر بتائیں کہ