خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 435
435 کرنی چاہئے اور قادر الکلام بننا چاہئے۔خود انہی کے ہتھیاروں سے، انہی کے انداز سے ہم ان کے متعلق جوابی کارروائی کریں گے اور اسلام کا دفاع کریں گے اور حضرت اقدس محمد مصطفی میں لے کے تقدس کی حفاظت کریں گے اور یہ جنگ آج کی چند دنوں کی جنگ نہیں ہے۔یہ لوگ اس حملے کو بھول جائیں گے اور یہ تاریخ کی باتیں بن جائیں گی اور پھر ایک بد بخت اٹھے گا اور پھر حملہ کرے گا اور پھر صلى الله ایک بد بخت اٹھے گا اور پھر حملہ کرے گا اس لئے احمدیت کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ کے لئے آنحضور کے کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو جائے تمام تیر جو ہمارے آقا محمد رسول اللہ ﷺ پر چلائے جار ہے ہیں۔اپنے سینوں پر لے اور وہ سارے مضامین جو اس کتاب میں کہانی کے رنگ میں چھیڑے گئے ہیں ان کا متفقین اور اہل علم مطالعہ کریں اور ان کے دفاع پر کثرت کے ساتھ مضامین شائع کروائیں۔(الفضل 28 مارچ 1989 ء ) اسی خطبہ میں حضور نے فرمایا کہ جن ملکوں یا کمپنیوں نے سلمان رشدی کی کتاب شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان کو شکریہ کے خطوط لکھے جائیں۔3 مارچ 1989ء کو بھی اسی مضمون پر پر جلال خطبہ میں فرمایا کہ: دنیا بھر کے احمدی رشدی کی شیطانی کتاب کے خلاف اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں نیز اس کتاب پر مغربی دنیا کے ردعمل کے جواب میں اقتصادیات اور رائے عامہ کا ہتھیار استعمال کیا جائے۔عالمی مشاورت کی تحریک: فرمایا: آپ نے عالم اسلام کے لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: نبی اکرم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے عالمی مشاورت بلانے کی ضرورت ہے۔حضور نے آج مسلمانوں کی اندرونی دشمنیاں اس بات کی راہ میں حائل ہوگئی ہیں کہ اسلام کے خلاف شدید ترین اور غلیظ ترین حملوں کے مقابل پر بھی وہ اکٹھے ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔پس ایک ایسی عالمی مشاورت کے بلانے کی ضرورت ہے، جو خواہ مکہ یا مدینہ میں بلائی جائے یا اسلام آباد، پاکستان میں بلائی جائے یا ایران میں بلائی جائے یا دنیا کے کسی اور خطے میں بلائی جائے۔کوئی بلانے والا ہو اور کوئی وہ مقام ہو جہاں اکٹھا ہونے کی دعوت دی جائے۔آج خدا اور محمد مصطفیٰ