خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 396
396 کے بچو! اٹھو اور آگے بڑھو اور تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں وقف جدید کے کام میں جو رخنہ پڑا گیا ہے اسے پر کر دو اور اس کمزوری کو دور کر دو جو اس تحریک کے کام میں واقع ہو گئی ہے۔کل سے میں اس مسئلہ پر سوچ رہا تھا۔میرا دل چاہا کہ جس طرح ہماری بہنیں بعض مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ جمع کرتی ہیں اور سارا ثواب مردوں سے چھین کر اپنی جھولیوں میں بھر لیتی ہیں۔وہ اپنے باپوں ، اپنے بھائیوں، اپنے خاندان اپنے دوسرے رشتہ داروں یا دوسرے احمدی بھائیوں کو اس بات سے محروم کر دیتی ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر میں مالی قربانی کر کے ثواب حاصل کر سکیں۔اسی طرح اگر خدا تعالیٰ احمدی بچوں کو توفیق دے تو جماعت احمدیہ کے بچے وقف جدید کا سارا بوجھ اٹھا لیں لیکن چونکہ سال کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور مجھے ابھی اطفال الاحمدیہ کے صحیح اعداد و شمار بھی معلوم نہیں اس لئے میں نے سوچا کہ آج میں اطفال الاحمدیہ سے صرف یہ اپیل کروں کہ اس تحریک میں جتنے روپے کی ضرورت تھی اس میں تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں جو کمی رہ گئی ہے اس کا بار تم اٹھا لو اور پچاس ہزار رو پید اس تحریک کے لئے جمع کرو۔خطبات ناصر جلد 2 ص 419) پھر فرمایا:۔پس اے احمدیت کے عزیز بچو! اٹھو اور اپنے ماں باپ کے پیچھے پڑ جاؤ اور ان سے کہو کہ ہمیں مفت میں ثواب مل رہا ہے۔آپ ہمیں اس سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔آپ ایک اٹھنی ماہوار ہمیں دے دیں کہ ہم اس فوج میں شامل ہو جائیں۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ دلائل و براہین اور قربانی اور ایثار اور فدائیت اور صدق وصفا کے ذریعہ اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرے گی۔تم اپنی زندگی میں ثواب لوٹتے رہے ہو اور ہم بچے اس سے محروم رہے ہیں۔آج ثواب حاصل کرنے کا ایک دروازہ ہمارے لئے کھولا گیا ہمیں چند پیسے دو کہ ہم اس دروزاہ میں سے داخل ہو کر ثواب کو حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کی فوج کے ننھے منے سپاہی بن جائیں۔(خطبات ناصر جلد 2 ص 421 ) چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دفتر اطفال وقف جدید مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گیا اور باقاعدہ اس میدان میں بھی مقابلہ ہوتا ہے۔چنانچہ 12 جنوری 2007ء کو وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ پاکستان میں دفتر اطفال میں اول لا ہور دوم کراچی اور سوم ربوہ رہا۔الفضل 6 مارچ 2007 ء ص 6 )