خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 367 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 367

367 نصرت جہاں سکیم کو اللہ تعالیٰ نے ایسی عظیم الشان کامیابی عطا کی ہے کہ ساری دنیا کے دماغ مل کر بھی اس کا تصور نہیں کر سکتے“۔نمایاں امتیاز تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1980ء) عیسائیت بھی محبت اور خدمت کا پیغام لے کر افریقہ میں داخل ہوئی مگر اس کے مقابلہ پر نصرت جہاں سکیم کے ذریعہ احمدیہ خدمات کو ایک نمایاں امتیاز حاصل ہے۔جسے حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اہل افریقہ کے سامنے بار ہا بیان کیا۔ایک موقع پر فرمایا:۔میں انہیں ہمدردی و غمخواری اور پیار و محبت کی بہت سی مثالیں دیتا تھا جماعت احمدیہ کا عمل ان کے سامنے پیش کرتا تھا۔اپنی پچاس سالہ تاریخ ان کے رو برود ہرا تا تھا اور میں انہیں بتا تا تھا کہ یہ تو درست ہے کہ آج سے چند صدیاں قبل مسیحیت تمہارے ملک میں یہی نعرے لگاتے داخل ہوئی تھی کہ ہم پیار کا ، Love کا پیغام لے کر آرہے ہیں لیکن محبت کے اس پیغام کے جھنڈے ان تو پوں پر گاڑے گئے تھے جو یورپ کی مختلف اقوام کی فوجوں کے پاس تھیں اور ان تو پوں کے مونہوں سے گولے بر سے پھول نہیں بر سے اور وہ محبت کا پیغام کامیاب نہیں ہوا نہ اسے ہونا چاہئے تھا نہ وہ ہوسکتا تھا کیونکہ اس سے بہتر ، اس سے زیادہ پیارا پیغام حضرت محمد رسول ﷺ کے ذریعہ دنیا کی طرف نازل ہو چکا تھا۔اب ہم تمہارے پاس محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں اور قریباً پچاس سال سے مختلف ملکوں میں تمہاری خدمت کر رہے ہیں اور تم میں سے ہر شخص بڑا بھی اور چھوٹا بھی ، حاکم بھی اور محکوم بھی رعایا بھی اور ان کے افسر بھی جانتے ہیں کہ اس پچاس سالہ تاریخ میں نہ ہم نے تمہاری سیاست میں کبھی دلچسپی لی اور نہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ، نہ تمہارے مالوں کی طرف ہم نے حرص کی نگاہ اٹھائی تم جانتے ہو ہم نے جو کچھ کمایا وہ تمہارے ملکوں ہی میں لگا دیا اور تم نے جو کچھ نہیں کمایا بلکہ کسی اور نے کسی اور ملک میں کما یاوہ بھی یہاں لائے اور اسے بھی تمہاری خدمت پر لگا دیا۔(خطبہ جمعہ 12 جون 1970 ء۔خطبات ناصر جلد 3 ص 113