خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 358
358 عارضی کے دوران تہجد میں مزید با قاعدگی اور سلسلہ کی کتب کے مطالعہ میں انتہاک میسر آیا۔اس کے ساتھ وقف عارضی کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قرآن پاک کا پہلا پارہ اور بعض دوسرے حصے حفظ کر لئے اور یہ حفظ کا سلسلہ جاری ہے۔وقف عارضی کی برکت سے مطالعہ کا غیر معمولی شوق پیدا ہوا۔(الفضل 28 /اکتوبر 2005ء) ایک صاحب نے اپنا عرصہ وقف گزارنے کے بعد حضور کی خدمت میں لکھا:۔سیدی! عاجز کی شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور تاریخ بارات کے روز جو خوشی ہوئی تھی وہ وقف عارضی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی قلبی بشاشت کے مقابلہ میں حقیر ترین ہوگئی۔الحمدللہ زبان پر یہ شعر آ رہا تھا اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پالیتے ہیں وہ اور دوسرے امیدوار خیال آتا تھا کہ وہ مبارک لوگ کس قدر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد ہیں جنہوں نے ساری زندگی دین کے لئے قربان کی ہوئی ہے۔ذاتی تجربہ: ایک وفد نے اپنی رپورٹ میں لکھا:۔( افضل 31 مارچ 1967ء) حضور کی اس وقف عارضی کی تحریک سے اصلی فائدہ تو وہ لوگ محسوس کر سکتے ہیں جو واقعہ میں اس میں شامل ہو کر اپنے گھروں اور عزیزوں سے عارضی طور پر جدا ہوتے ہیں اور کچھ کام اور دعائیں کرنی شروع کرتے ہیں۔ہم نے تو ان دنوں میں وہ کچھ محسوس کیا ہے جو گھر بیٹھے شاید سال بھر میں بھی ہم نہ ( الفضل یکم اپریل 1967ء) پاتے۔ایک وفد نے حضور کی خدمت میں لکھا:۔وقف عارضی کے دو ہفتوں کے دوران ہم نے اپنے دل میں ایک عجیب روحانی کیفیت محسوس کی، ہماری روحیں ہردم آستانہ الوہیت پر سجدہ ریز رہیں۔ہم نے قبولیت دعا کے نظارے دیکھے۔احمدیت کی تائید میں متعدد خدائی نشانوں کا ظہور ملاحظہ کیا اور برکات خلافت کے عجیب رنگ کے کرشمے دیکھے۔یہ محض فضل الہی تھا وگرنہ ہم عاجز اور گنہگار بندے کس شمار میں ہیں۔الفضل 10 مئی 1967 ء )