خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 359
359 پس وقف عارضی کے ایام میں محاسبہ نفس کا موقع ملتا ہے۔وسعت مطالعہ اور غور وفکر کی عادت پیدا ہوتی ہے۔خود اعتمادی نشو و نما پاتی ہے۔تقریر اور خطاب کرنے کی مشق ہوتی ہے۔نئی نئی جگہوں پر جانے سے سیر و تفریح اور نئے نئے علاقے دیکھنے کا وقت میسر آتا ہے۔وقف عارضی کے نتیجہ میں باہمی اخوت، مودت کے جذبات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔رشتہ ناطہ کے معاملات میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث جماعت کو عموماً اور اہل ربوہ کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ کرتے اور الہامی بشارت دیتے ہوئے 23 ستمبر 1966ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔کل رات میں سوچ رہا تھا کہ مجھے جتنے واقفین چاہئیں۔اس تعداد میں واقفین مجھے نہیں ملے۔مثلاً ربوہ کی ہی جماعت ہے۔آج جو دوست میرے سامنے بیٹھے ہیں ان میں کثرت ربوہ والوں کی ہے لیکن ان میں سے بہت کم ہیں جنہوں نے وقف عارضی میں حصہ لیا اور یہ بات قابل فکر ہے کہ کیوں آپ کی توجہ ان فضلوں کے جذب کرنے کی طرف نہیں ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ واقفین عارضی پر کر رہا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں رات سوچ رہا تھا کہ مجھے جتنے واقفین عارضی چاہئیں اتنے نہیں ملے حالانکہ اس کی بہت ضرورت ہے۔تو جب میں سویا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے ایک کاغذ آیا ہے اور اس کاغذ پر دو فقرے خاص طور پر ایسے تھے کہ خواب میں میری توجہ ان کی طرف مبذول ہوئی“۔پھر حضور نے ان فقرات کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔اس کے ایک معنی رفعت اور علو حاصل کرنے والے کے ہیں اور ان معنوں کے لحاظ سے اس میں یہ بشارت ہے کہ جماعت میں سے جو لوگ قرآنی علوم سیکھنے کے لحاظ سے ضعیف کہلانے والے ہیں اب اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ وہ بھی علو مرتبت اور قرآن کریم کی ان رفعتوں تک پہنچنے والے ہوں گے۔جن رفعتوں تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل کیا ہے۔سو الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ بشارت دے رہا ہے لیکن ہر وہ بشارت جو آسمان سے نازل ہوتی ہے زمین والوں پر ایک ذمہ داری عائد کرتی ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنا ان کا فرض ہوتا ہے۔(خطبات ناصر جلد اول ص 403