خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 357 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 357

357 جا کے مسجد میں ڈیرہ لگالیا اور دعائیں کرنے لگ گئے۔انہوں نے جماعت کو قرآن کریم پڑھنے کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے دیکھا کہ شروع میں جماعت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔پہلے ہفتہ انہوں نے یہ رپورٹ بھیجی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مرچکی ہے اور اس کے زندہ ہونے کی اب کوئی امید نہیں۔دوسرے ہفتہ رپورٹ بھی اس قسم کی تھی۔تیسرے ہفتہ کی رپورٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں نے پہلے جو رپورٹیں بھجوائی ہیں وہ سب غلط تھیں جماعت مری نہیں بلکہ زندہ ہے لیکن خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہے۔اگر اس کی تربیت کی جائے اور اسے جھنجھوڑا جائے تو اس کی زندگی کے آثار زیادہ نمایاں ہو جائیں گے۔وہ زندگی جو جماعت ہائے احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اپنے رب سے حاصل کی ہے۔خطبات ناصر جلد اول ص 404) ایک واقف عارضی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے یہ تحریک بڑی بابرکت اور ایمان افروز اور اعلیٰ نتائج کی حامل ہے۔اس تحریک سے جماعتوں کے اندر ایک نئی بیداری، روحانی تغیر اور بیداری کی روح پیدا ہوگئی ہے۔یہ تحریک یقیناً ایک روحانی انقلاب لائے گی۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقیات کا موجب ہوگی اور سرفروشان و مجاہدین کی جماعت پیدا کرے گی۔(الفضل 10 مئی 1967ء) خلوص کو خراج تحسین: واقفین عارضی جس محنت ، خلوص اور سرفروشانہ جد و جہد سے قرآن کی تعلیم و تدریس میں مشغول رہتے ہیں وہ دیکھنے والوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔واقفین عارضی بستی طاہر خان میں پہنچے تو ان کی دیوانہ وار محنت کو دیکھ کرسیکرٹری مال نے لکھا:۔یہ بھی حضرت مسیح موعود کا ایک معجزہ ہے کہ کتنی کتنی دور سے دوست اپنے کاروبار دنیوی چھوڑ کر دین کی خاطر اپنے خرچ پر شہروں کو چھوڑ کر جنگلوں میں تعلیم قرآن دیتے پھرتے ہیں۔ہر قسم کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین (الفضل 23 ستمبر 1966ء) ایک واقف عارضی نے لکھا:۔وقف عارضی پر آنے سے پہلے دعوت الی اللہ اور تربیتی نقطہ نظر سے کچھ کتب کے مطالعہ کا موقع ملا۔ضرورت کے مطابق کتب ساتھ بھی رکھیں اور خدا کے حضور عاجزانہ دعائیں کرتے ہوئے کام شروع کیا۔خود اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور اپنی اصلاح کا خوب خوب موقع ملا۔بفضلہ تعالیٰ وقف