خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 356
356 عارضی کے جانے کی وجہ سے ساری جماعت میں ایک نئی زندگی ایک نئی روح پیدا ہوگئی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خود واقفین عارضی نے یہ محسوس کیا کہ اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑے فضل نازل کئے ، بڑی برکتیں نازل کیں۔ان میں سے بعض اپنا عرصہ پورا کرنے کے بعد واپس آکر مجھے ملے تو ہر فقرہ کے بعد ان کی زبان سے یہ نکلتا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے بڑے نمونے دیکھے ہیں۔ان کے منہ سے اور ان کی زبان سے خود بخود اس قسم کے فقرے نکل رہے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور برکت سے کیا ہے نہ کہ ہماری کسی خوبی کے ( خطبات ناصر جلد اول ص 402) وقف عارضی اصلاح نفس کا ذریعہ ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔تحریک وقف عارضی کا دوسرابڑا فائدہ یہ ہے کہ جولوگ وقف عارضی پر جاتے ہیں ان کو اپنے نفس کا بعض پہلوؤں سے محاسبہ کرنا پڑتا ہے۔جانے سے قبل انہیں اپنی بعض کمزوریوں کی طرف توجہ ہو جاتی ہے اور دعاؤں کی طرف ان کی توجہ مائل ہو جاتی ہے۔یعنی وقف عارضی پر جانے کی جو تیاری ہے اس کا بڑا حصہ یہ ہے کہ وہ دعاؤں کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی دینی معلومات میں اضافہ کرتے یا انہیں تازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ کتب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں اور اپنی عقلوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھتے ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے اندر یہ جذ بہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ دوسری جگہ جائیں تو لوگوں کے لئے نیک نمونہ بنیں ، ان کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔چنانچہ وقف عارضی کے وفود نے دعاؤں کی برکات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔نئی زندگی: 66 الفضل 12 فروری 1977ء) وقف عارضی کی سکیم قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کا بہترین موقع ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔میں نے ایک بزرگ کو ایک ایسی جماعت میں بھیجا جو تعداد میں بہت بڑی ہے۔انہوں نے وہاں