خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 355
355 نور میں نے اس دن دیکھا تھا وہ قرآن کا نور ہے جو تعلیم القرآن کی سکیم اور عارضی وقف کی سکیم کے ماتحت دنیا میں پھیلایا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس مہم میں برکت ڈالے گا اور انوار قرآن اسی طرح زمین پر محیط ہو جائیں گے جس طرح اس نور کو میں نے زمین پر محیط ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔وسعت پذیرتحریک: (خطبات ناصر جلد اول ص 344 ) بیرونی ممالک کے احمدیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں وقف عارضی کریں۔مگر بعد میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع اور پھر حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے ممالک بیرون میں وقف عارضی کی تحریک فرمائی۔خدائی فضل ونصرت: جن لوگوں نے تحریک وقف عارضی میں حصہ لیا اللہ تعالیٰ نے ان پر انفرادی اور اجتماعی طور پر مختلف رنگوں میں بے پناہ فضل نازل فرمائے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے ایک موقع پر ان افضال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔اس تحریک میں حصہ لینے والے ان پڑھ تھے یا کم پڑھے ہوئے تھے یا بڑے عالم تھے۔چھوٹی عمر کے تھے یا بڑی عمر کے، اللہ تعالیٰ نے ان پر قطع نظر ان کی عمر علم اور تجربہ کے ( کہ اس لحاظ سے ان میں بڑا ہی تفاوت تھا) اپنے فضل کے نزول میں کوئی فرق نہیں کیا۔اس عرصہ میں ان سب پر اللہ تعالیٰ کا ایک جیسا فضل ہوتا رہا۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اور اس کے فضل سے 99 فیصدی واقفین عارضی نے بہت ہی اچھا کام کیا۔ان میں سے ہر ایک کا دل اس احساس سے لبریز تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عرصہ میں اس پر اتنے فضل نازل کئے ہیں کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا اور اس کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ خدا کرے اسے آئندہ بھی اس وقف عارضی کی تحریک میں حصہ لینے کی توفیق ملتی رہے اور بعض جماعتوں نے تو یہ محسوس کیا کہ گویا انہوں نے نئے سرے سے ایک احمدی کی زندگی اور اس کی برکات حاصل کی ہیں۔ان کی غفلتیں ان سے دور ہوگئی ہیں اور ان میں ایک نئی روح پیدا ہوگی۔ان میں سے بہتوں نے تہجد کی نماز پڑھنی شروع کر دی اور جو بچے تھے انہوں نے اپنی عمر کے مطابق بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ قرآن کریم، نماز یا نماز کا ترجمہ اور دوسرے مسائل سیکھنے شروع کئے۔غرض واقفین