خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 349
349 خطہ کے لوگوں تک قرآن کریم کو اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ پہنچایا جا سکے۔چونکہ ہم نے ہر زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنا ہے اس لئے پہلے ہم ان کے حروف بنائیں پھر اس کی طباعت کریں گے۔یعنی قرآن کریم کا ترجمہ اس زبان میں بھی شائع کریں گے۔جو اس وقت بولی جاتی ہے مگر لکھی نہیں جاتی۔تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ جو لوگ یا قومیں قرآن کریم کا متن پڑھنے لگ جائیں اور اس کا ترجمہ سمجھنے لگ جائیں ان کو ہم قرآن عظیم کی تفسیر سے روشناس کرائیں، تفاسیر کی طباعت ہو۔ہر زبان میں ہو۔الفضل خلیفہ ثالث نمبر ص 44) پریس کے لئے وقار عمل کی تحریک: پریس کے قیام اور قرآن کریم سے قلبی تعلق کے اظہار کے لئے آپ نے تحریک فرمائی کہ اس کے تہہ خانہ کی کھدائی وقار عمل کے ذریعہ کی جائے۔چنانچہ 18 مارچ تا 24 اپریل 1973ء کو انصار، خدام اور اطفال نے بے حد ذوق و شوق کے ساتھ اس وقار عمل میں حصہ لیا اور ایک خوبصورت عمارت کھڑی ہوگئی۔پھر بے پناہ خرچ کے ساتھ مشینیں بھی آگئیں مگر ملکی حالات بدل گئے اور حکومتی پابندیوں کی وجہ سے یہ جدید پریس کام شروع نہ کر سکا لیکن اللہ کے وعدوں کے مطابق اشاعت قرآن کے کام میں کوئی روک پیدا نہ ہوئی اور اللہ کے فضل سے لاکھوں کی تعداد میں سادہ قرآن کریم اور مترجم قرآن شائع کئے جاتے رہے۔یہ پریس قرآنی علوم کی اشاعت کا اس پہلو سے مرکز بن گیا کہ اس کی عمارت کے ایک حصہ میں دفتر الفضل اور دوسرے حصہ میں نمائش قائم کی گئی ہے۔صد سالہ جوبلی منصوبہ کے اعلان کے ساتھ حضور نے مختلف ممالک میں پریس کے قیام کو اس کا حصہ بنا دیا۔حضور نے خطبہ جمعہ 21 نومبر 1975ء میں فرمایا: جب تک ہم باہر اپنے پر لیں نہ کھولیں ہم اسلام کی حقانیت میں اور توحید کے ثبوت میں لٹریچر اس تعداد میں شائع نہیں کر سکتے جتنا کہ ہم اپنے مطبع خانے اور اپنے پریس کے ذریعہ کر سکتے ہیں۔(خطبات ناصر جلد 6 ص 210 اسی ضمن میں حضور نے امریکہ، انگلستان اور دیگر ممالک میں پریسوں کے قیام کی تحریک فرمائی۔خطبات ناصر جلد 6 ص 214,211 )