خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 333 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 333

333 تو ہر ماہ دس ہزار کی امانت داخل ہو سکتی ہے۔جو تین سال میں چارلاکھ کے قریب ہوسکتی ہے۔الفضل 29 نومبر 1934 ء ) اور جب ضرورت بڑھ گئی تو حضور نے فرمایا:۔جماعت کے افراد میں سے جس کسی نے اپنا روپیہ کسی دوسری جگہ بطور امانت رکھا ہوا ہے وہ فوری طور پر اپنا روپیہ جماعت کے خزانہ میں بطور امانت داخل کر دے تا کہ فوری ضرورت کے وقت ہم اس سے کام چلا سکیں۔اگر ہندوستان کے تمام احمدی اس تحریک کی طرف توجہ کریں تو پچاس لاکھ روپیہ آسانی سے جمع ہو سکتا ہے۔مجلس شوری کے موقعہ پر ہی چار لاکھ کے قریب وعدے ہو گئے تھے۔حالانکہ شوری پر آنے والے دوست تمام جماعت کا دسواں حصہ بھی نہیں۔بلکہ ہزاروں بھی نہیں اگر ہم ان کو دسواں حصہ بھی سمجھیں تو بھی چالیس لاکھ روپیہ بنتا ہے جو جماعت سے اکٹھا ہوسکتا ہے“۔(الفضل 16 / اپریل 1945 ء ) اس کے بعد بھی حضور نے جماعت کے احباب کو کئی بار اس طرف توجہ دلائی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب اکثر احباب جو بینکوں میں روپیہ جمع کرانے پر مجبور نہیں اپنا روپیہ جماعت کے خزانہ میں رکھنا پسند کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جہاں ان کے روپیہ کی حفاظت ہوتی اور دینی کاموں میں استعمال ہونے کی وجہ سے اس میں برکت ہوتی ہے وہاں جماعت اپنے تمام ہنگامی کام اس سے چلا لیتی ہے۔اس طرح کہ جماعت کی ہنگامی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے اور احباب کو بھی حسب ضرورت اپنی امانت سے رو پیل جاتا ہے۔حضور خود فرماتے ہیں:۔”ہمارے دشمنوں کو جو نا کامی ہوئی ہے اس میں امانت فنڈ کا بہت بڑا حصہ ہے اور اب جو نیا فتنہ اٹھا۔تھا۔اس نے بھی اگر زور نہیں پکڑا تو در حقیقت اس میں بھی بہت سا حصہ تحریک جدید کے امانت فنڈ کا (الفضل 4 دسمبر 1937 ء ) وقف جائیداد اور وقف آمد کی اہم تحریک: سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے 10 مارچ 1944ء کو جماعت سے وقف جائیداد اور اس کے نہ ہونے کی صورت میں وقف آمد کا مطالبہ فرمایا اور ساتھ ہی وضاحت بھی فرمائی کہ