خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 332 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 332

332 جماعت قادیانی کے پاس موجود ہیں۔برخلاف اس کے ہم شیعوں کی یہ حالت ہے کہ ہماری واحد نمائندہ جماعت آل انڈیا شیعہ کا نفرنس کے پاس دفاتر کے لئے بھی کوئی اس کا ذاتی مکان نہیں ہے اور اس مد کرایہ میں اسے گزشتہ چھ سات سال کے اندر پانچ چھ ہزار روپیہ دینے پڑے۔اتنی رقم میں دفتر کانفرنس اور ادارت متعلقہ کے لئے ایک خاص عمارت بن سکتی یا خریدی جاسکتی تھی لیکن سرمایہ کے سوال نے اب تک اس تحریک کو بار آور نہ ہونے دیا۔کیا شیعہ جماعت میں ایسے سرمایہ دار موجود نہیں کہ وہ پانچ سات ہزار چندہ نہیں تو قرض حسنہ ہی دے کر دفتر آل انڈیا شیعہ کانفرنس کو کرایہ مکان کے مستقل بار سے محفوظ کر دیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے قومی ادارات کی حالت زار پر ایک آہ سرد بھر کر خاموش ہو جانا چاہئے اور یہ طے کر لینا چاہئے کہ ہمارے دست شل میں یہ صلاحیت نہیں کہ ہم کسی بار کو اٹھاسکیں۔کاش کہ قادیانی جماعت کا جذبہ عمل ہماری سوئی ہوئی قوم کے لئے سبق آموز اور ہمت آفرین ہو اور ہم بھی وقت کی اہم ضروریات کی طرف متوجہ ہوسکیں۔تاریخ احمدیت جلد 7 ص 162) امانت فنڈ میں رقم جمع کرانے کی تحریک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے امانت فنڈ کی اپیل 1934ء میں کی۔جبکہ تحریک جدید کے مطالبات کے ضمن میں حضور نے جماعت سے یہ مطالبہ کیا کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا 1/5 سے 1/3 حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔وہ سب رقم اس میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن احمدیہ کے پاس جمع کرا دیں۔اس مطالبہ کے ماتحت جو آنا چاہے اسے چاہئے کہ جلد سے جلد مجھے اطلاع دے اور یہ بھی اطلاع دے کہ کس قدر حصہ کا عہد ہے اور چندے وغیرہ نکال کر کس قدر رقم اوسطاً اس کی امانت میں جمع کرانے والی پہنچے گی۔جسے وہ با قاعدہ جمع کراتا رہے گا مقررہ تین سال کے بعد جتنی رقم جمع ہوگی وہ یا تو نقد یا رقم کے برابر جائیداد کی صورت میں اسے واپس دے دی جائے گی۔۔۔اوسطاً آمد ایک آدمی کی اگر پانچ روپیہ بھی رکھ لی جائے