خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 331 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 331

331 جماعت کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہے اور اس پر غربا و متوسط الحال لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے باوجود اس کے حال میں اس کے دفتر قادیان سے سلسلہ کی ضروریات کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ قرض جمع کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔چنانچہ دو ماہ کے اندرہی یہ رقم فراہم ہوگئی لیکن اگر کسی غیر احمدی جماعت کی طرف سے اتنی ہی رقم کے لئے اپیل کی جاتی تو وہ چھ ماہ میں کیا سال بھر میں بھی جمع نہ ہو سکتی تھی۔خواہ وہ ضرورت کتنی ہی شدید ہوتی۔چنانچہ مثالاً امارت شرعیہ بہار کے زلزلہ فنڈ ہی کو دیکھ لیجئے کہ چار ماہ میں صد ہا اپیلوں اور التجاؤں کے باوجود اب تک چالیس ہزار بھی فراہم نہیں ہو سکا۔کاش احمدی جماعت کے اس ایثار سے عام مسلمان سبق لیں اور قومی ضروریات کے لئے ایک بیت المال قائم کر کے اپنی بیداری اور زندگی کا ثبوت دیں۔اسی طرح لکھنو کے مشہور شیعہ ترجمان ” سرفراز ( یکم جون 1934 ء) نے لکھا:۔”مذہبی حیثیت سے ہمیں قادیانیوں سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔لیکن ہم ان کے اس جوش قومی و مذہبی کی قدر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جو ان کی طرف سے اپنے جماعتی مفاد کو تقویت دینے کے لئے آئے دن ظہور پذیر ہوتارہتا ہے۔ابھی حال ہی میں سلسلہ احمدیہ کی ضروریات کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ قرض کی تحریک کی گئی تھی۔ناظر امور عامہ قادیان کا بیان جو الفضل قادیان مورخہ 29 مئی 1934 ء میں شائع کیا گیا ہے بتاتا ہے کہ اگر اس فنڈ کے بند کر دینے کا اعلان نہ کر دیا جاتا تو اس سلسلہ میں ایک لاکھ روپیہ جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔اب بھی اس تحریک کے ان وعدوں کو ملا کر جن کی چند روز میں وصولی یقینی ہے۔یہ رقم پچھتر ہزار تک پہنچ چکی ہے۔یہ واضح رہے کہ چندے یا قرض کی یہ تحریک ایسی تحریک نہیں ہے جو کئی برس کے بعد اٹھائی گئی ہو اور اس کے لئے کوئی خاص جدو جہد عمل میں آئی ہو بلکہ اس جماعت کی طرف سے آئے دن اپنے جماعتی مفاد کے لئے چندے ہوتے رہتے ہیں اور اس وقت تک چار ہزار کے قریب ایسی وصیتیں ہو چکی ہیں جن میں وصیت کنندگان نے اپنی جائیداد کا بڑا حصہ اپنے جماعتی ، قومی اور مذہبی کاموں کے لئے وقف کیا ہے۔ظاہر ہے کہ قادیانیوں کی مجموعی تعداد ہندوستان کے شیعوں سے بہت کم ہے لیکن جذ بہ عمل میں یہ مٹھی بھر قادیانی دو کروڑ شیعوں سے کہیں زیادہ نظر آتے ہیں۔سینکڑوں مکانات پچاسوں اراضیات