خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 305
305 زیادہ سے زیادہ پیشے اختیار کریں تا کہ ملک کو ترقی حاصل ہو اور کم سے کم ملازمتیں کریں۔صرف اتنی جن کی ملک کو اشد ضرورت ہو“۔مشینوں پر کام کرو: حضور نے فرمایا:۔(الفضل 14 دسمبر 1952ء) ہمارے خدام کو مشینری کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے آجکل مشینوں میں برکت دی ہے۔جو شخص مشینوں پر کام کرنا جانتا ہو، وہ کسی جگہ بھی چلا جائے اپنے لئے عمدہ گزارہ پیدا کر سکتا ہے۔آجکل تمام قسم کے فوائد مشینوں سے وابستہ ہیں اور جتنا مشینوں سے آجکل کوئی قوم دور ہوگی اتنی ہی وہ ترقیات میں پیچھے رہ جائے گی اسی طرح اگر خدام لوہار ، ترکھان ، بھٹی اور دھونکنی کا کام سیکھیں تو ان کی ورزش کی ورزش بھی ہوتی رہے گی اور پیشہ کا پیشہ بھی ہے۔چونکہ خدام کے لئے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے۔اگر خدام ایسے کام کریں تو وہ ایک طرف ہاتھ سے کام کرنے والے ہوں گے اور دوسری طرف اپنا گزارہ پیدا کرنے والے ہوں گے۔مشعل راه جلد 1 ص 445 ) صنعتی مرکز متحدہ ہندوستان کے دور میں آپ نے قادیان میں تحریک جدید کے زیر انتظام لو ہے ، لکڑی اور چھڑے کے کارخانے جاری کرائے۔اس کے علاوہ مختلف احمدی صناعوں کی کوشش سے شیشہ سازی اور دوسری اشیاء کے متعدد کار خانے شروع ہوئے۔مثلاً سٹار ہوزری جس کے ذریعہ ایک ہزار کے قریب افراد کو روزگار میسر آیا اور متعدد گھروں میں مشینیں نصب ہوئیں۔اس کارخانہ نے مکرم بابو اکبر علی صاحب جیسے لائق اور قابل انسان کے ہاتھ میں بہت ترقی کی۔قادیان کا مشہور کارخانہ میک ورکس تھا جس کی وجہ سے قادیان کی صنعتی شہرتِ دور دور کے شہروں تک پھیل گئی تھی۔اس کے علاوہ اکبر علی اینڈ سنز جنرل سروس احمد برادرز، پیرورکس مکینیکل انڈسٹریز ، آئرن سٹیل میٹل وغیرہ کا رخانے لوہے کا کام کرتے تھے۔جگہ جگہ بھٹیاں جل رہی تھیں۔لوہا پگھل رہا تھا اور مختلف اشیاء ڈھل رہی تھیں۔کہیں آتا پینے کی مشینیں نصب تھیں۔کہیں روئی دھنے کی کھلیں اور کہیں لکڑی چیرنے کی مشینیں چل رہی تھیں۔موسم گرما میں متعدد سوڈا واٹر فیکٹریاں کام کرتی تھیں۔عطریات کے لئے پر فیومری کا کارخانہ تھا۔ایک