خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 302
302 صنعت و حرفت اور تجارت کے متعلق تحریکات حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ایک طرف تو جماعت کو اعلیٰ دینی و دنیوی تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلا رہے تھے تو دوسری طرف تمام لوگوں کو حسب عمر و حالات پیشے سیکھنے کی ترغیب دلا رہے تھے۔جس کا مقصد یہ تھا کہ کوئی احمدی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے بلکہ طیب مال حاصل کر کے دین کی خدمت بھی کر سکے۔اسی ضمن میں آپ نے بریکاری کے خلاف زبردست تحریک چلائی اور فرمایا کہ بریکاری قوم کی تباہی اور بربادی کا موجب ہوتی ہے۔ہندوستان میں تجارت قریباً تمام کی تمام ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی جو مسلمان اس طرف توجہ کرتے تھے۔وہ اس لئے کامیاب نہیں ہو سکتے تھے کہ درمیان کے سارے راستے ہندوؤں کے قبضہ میں تھے۔جب ملک میں آزادی کا احساس پیدا ہونا شروع ہوا تو مسلمانوں کو بھی صنعت کا خیال آیا۔لیکن بڑھئی، جلا ہے، معمار، لوہار جو پہلے زیادہ تر مسلمان ہوتے تھے وہ گرے ہوئے برتاؤ کی وجہ سے اپنے اپنے بیشہ کو حقیر سمجھ کر چھوڑ چکے اور اس کی جگہ دوسرا کام اختیار کر چکے تھے۔اس لئے اس تحریک سے بھی زیادہ تر فائدہ ہندوؤں ہی نے حاصل کیا اور وہ تجارت کے قریباً تمام شعبوں پر قابض ہو گئے۔حتی کہ ذبیحہ گاؤ کے سوال پر آئے دن جا بجا فسادات بر پا کرنے کے باوجود چمڑے کی تجارت کے بھی مالک بن بیٹھے۔صنعتی تحریک حضرت خلیفۃ لمسیح الثانی نے مشاورت 1931ء کے موقع پر دوسرے مسلمانوں کوعموماً اور اپنی جماعت کو خصوصاً اس نازک صورتحال کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ جماعتی ترقی کے لئے صنعت و حرفت اور تجارت ضروری چیزیں ہیں اور اگر مسلمانوں نے جلد ہی ادھر توجہ نہ کی تو ان پر ترقی کے راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے۔حضور نے اس سلسلہ میں ایک صنعتی تحریک جاری کرنے کا قصد فر مایا اور اس کی سکیم بنانے کے لئے مشتمل ایک کمیٹی بنادی۔چند تجربه کاراصحاب صنعتی تحریک کی سکیم کے مطابق قادیان میں پہلا کارخانہ ”ہوزری فیکٹری“ کے نام سے کھولا گیا جو