خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 296
296 اٹھایا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں دعائیں دیں گی اور کہیں گی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا بھلا کرے جن کی کوشش سے آج ہم آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ان کی دعائیں عرش الہی کو ہلا دیں گی۔وہ کہیں گے الہی ! جن لوگوں نے ہمیں آزاد کرایا ہے تو بھی ان کو آزاد کر دے۔الفضل 24 ستمبر 1931ء ، انوار العلوم جلد 12 ص 134) یکم اگست : حضور نے وائسرائے ہندلا رڈنگٹن سے ملاقات کی اور کشمیر کے متعلق اپنا موقف بیان اگست: حضور نے پہلیٹی کمیٹی تجویز فرمائی جس کا کام مسلمانان کشمیر کے حقوق و مطالبات کی حمایت و اشاعت تھا۔اس کمیٹی نے کئی کتب اور ہینڈ بل شائع کئے۔کمیٹی نے مسلم پریس سے رابطہ کر کے اخبارات میں مضامین لکھے اور لکھوائے۔حضور نے خود بھی کئی مضامین لکھے جو جماعت کے اخبار سن رائز میں ترجمہ کر کے بطور اداریہ شائع کئے جاتے رہے۔تحریک کشمیر کی تائید کرنے کے جرم میں حکومت نے اخبار انقلاب پر مقدمہ چلانا اور بند کرنا چاہا تو حضور نے ایڈیٹر انقلاب عبدالمجید سالک صاحب کو پیغام بھجوایا کہ ہم ضمانت کی پوری رقم 5 ہزار داخل کرنے کو تیار ہیں اخبار بند نہیں ہونا چاہئے۔3 اگست: حضور نے مہاراجہ جموں و کشمیر کے نام تار دیا جس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے وفد سے ملاقات کی اجازت مانگی گئی۔لیکن مہاراجہ نے اجازت نہ دی۔کشمیر ریلیف فنڈ حضور نے اہل کشمیر کی خدمت کے لئے کشمیر ریلیف فنڈ قائم کر کے ایک پائی فی روپیہ ہر احمدی کے لئے لازمی قرار دے دیا۔چنانچہ کمیٹی کے اخراجات کا اکثر حصہ جماعت احمدیہ نے برداشت کیا۔شیخ محمد عبداللہ صاحب حضرت مصلح موعود سے ملاقات کے لئے تشریف لائے اور حضور کی راہنمائی میں کا م کرنے کا وعدہ کیا۔حضور نے مسلمانان کشمیر کی تنظیمی جد و جہد میں جوش پیدا کرنے کے لئے مطبوعہ خطوط لکھنے کا سلسلہ