خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 281 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 281

281 کے میدان سے بے دخل کرنے کی یہ تدبیریں کارگر نہ ہو سکیں اور ان کا قدم پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے ہی بڑھتا گیا۔شیعہ سنی فساد کے موقع پر راہنمائی تاریخ احمدیت جلد 4 ص 583 1927ء کے ابتداء میں تیراہ کے علاقہ میں شیعہ سنی فسا در ونما ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس موقعہ پر شیعہ اور سنی حضرات سے مندرجہ ذیل دردمندانہ اپیل شائع کی۔سرحدی آزاد علاقہ کے شیعہ سنی فساد کی اطلاعیں ان لوگوں کے لئے جن کے دل میں اسلام کا درد ہے۔سخت صدمہ کا موجب ہوئی ہیں۔میں تمام سنیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان معاملات پر پلیٹ فارم یا اخبارات میں جوش سے بحث نہ کریں بلکہ باہمی اختلافات کا پرائیویٹ طور پر تصفیہ کرنے کی کوشش کریں۔نیز یہ بھی اپیل کرتا ہوں کہ سنی صرف اس واسطے اس جھگڑے میں سنیوں کو حق پر نہ سمجھے لیں کہ وہ سنی ہیں اور اسی طرح میں شیعوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہ خیال نہ کر لیں کہ شیعہ قبائل مظلوم ہیں صرف اس وجہ سے کہ وہ شیعہ ہیں لیکن یہ بات صاف ہے کہ ہمیں بہت سی عزیز جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جو کسی وقت مفاد اسلامی کے لئے زیادہ منفعت بخش ثابت ہو سکتی تھیں۔ہمارا فوری فرض یہ ہونا چاہئے کہ اس برائی کو اور نہ پھیلنے دیں اور ان لوگوں کی مدد کریں جن کو اس فساد میں نقصان برداشت کرنا پڑا ہے میرے ناقص خیال میں چونکہ ہم سرکاری علاقہ میں رہنے کی وجہ سے آزاد علاقے پر بہت تھوڑا اثر رکھتے ہیں اور چونکہ وہ اقوام اپنی آزادی کے لئے بہت غیرت رکھتی ہیں۔اس لئے ہم صرف سرحدی رؤسا کے ذریعہ ہی ان لڑنے والے قبائل پر اثر ڈال سکتے ہیں۔لہذا ہم کو فوراً پشاور اور کو ہاٹ میں تمام اسلامی فرقوں کے ذی اثر اصحاب کی ایک کمیٹی بنانا چاہئے جس میں وہ ملا اور سردار خصوصیت سے شامل کئے جائیں۔جن کو ان اقوام میں سے کسی نہ کسی کم و بیش رسوخ حاصل ہوتا کہ ہم آزاد سرحدی علاقہ کے شیعوں اور سنیوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے ذرائع معلوم کر سکیں۔میں یہ بھی تجویز کرتا ہوں کہ اس کمیٹی کو چاہئے کہ ان لوگوں میں حقیقی صلح کرائے اور صرف دفع الوقتی سے کام لے کر کوئی ایسا صلح نامہ نہ مرتب کرے۔جو انجام کار ایک سخت نقصان دہ دھوکا ثابت ہو۔نیز ایک فنڈ بھی فوراً کھولنا چاہئے۔تاکہ جن لوگوں کو اس افسوسناک لڑائی میں مالی یا جانی نقصان پہنچا ہے