خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 271 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 271

271 ان لوگوں کی تھی جو صرف تن کے کپڑے ہی بچا کر نکل سکے تھے۔اس تشویشناک صورتحال نے آباد کاری کے انتظام کے بعد جلد ہی ایک خطر ناک اور سنگین مسئلہ کھڑا کر دیا اور وہ یہ کہ جوں جوں سردی کے ایام قریب آنے لگے ہزاروں ہزار احمدی مرد بچے اور بوڑھے سردی سے نڈھال ہونے لگے۔سیدنا المصلح الموعودؓ سے اپنے خدام کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔چنانچہ آپ نے مغربی پنجاب کے احمدیوں کے نام پیغام دیا کہ سردی کا موسم سر پر آپہنچا ہے انہیں اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے بستروں کمبلوں اور تو شکوں کا فوری انتظام کرنا چاہئے۔حضور کے اس پیغام کا مکمل متن حسب ذیل تھا۔اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ احمدی مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔جس طرح کتے لاشوں پر جھپٹتے ہیں۔اسی طرح سکھ جتھوں اور پولیس اور ملٹری نے ان علاقوں کا مال و اسباب لوٹ لیا ہے۔اکثر تن کے کپڑے بچا کر ہی نکل سکے۔بستر بہت ہی کم لوگ لا سکے ہیں۔ہزاروں ہزار بچہ اور عورت سردی سے نڈھال ہو رہا ہے۔پانچ ہزار آدمی اس وقت صرف ہمارے پاس جو دھامل بلڈنگ، دوسری بلڈنگوں اور ان کے ملحقہ میدانوں میں پڑا ہے۔ان میں سے اکثر قادیان میں سے آئے ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ مکانوں اور جائیدادوں والے تھے مگر ان کے مکانوں پر سکھوں نے قبضہ کر لیا ہے اور ان کے گھروں کو سکھوں نے لوٹ لیا ہے۔قادیان کے رہنے والوں میں چونکہ یہ شوق ہوتا تھا کہ وہ اپنا مکان بنا ئیں اس لئے عورتوں کے پاس زیور اور مردوں کے پاس روپیہ بہت ہی کم ہوتا تھا۔اس لئے جب لوگوں کو قادیان چھوڑنا پڑا تو مکان اور اسباب کو سکھوں نے لوٹ لئے اور روپیہ اور زیور ان کے پاس تھا ہی نہیں۔اکثر بالکل خالی ہاتھ پہنچے ہیں اور اگر جلد ان کے لئے کچھ کپڑے اور رضائیاں وغیرہ مہیا نہ کی گئیں تو ان میں سے اکثر کی موت یقینی ہے۔اس لئے میں مغربی پنجاب کے تمام شہری ، قصباتی اور دیہاتی احمدیوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آج ان کے لئے ایثار اور قربانی کا جذ بہ دکھانے کا وقت آگیا ہے سوائے ان بستروں کے جن میں وہ سوتے ہیں اور سوائے اتنے کپڑوں کے جو ان کے لئے اشد ضروری ہیں باقی سب بستر اور کپڑے ان لوگوں کی امداد کے لئے دے دیں جو باہر سے آرہے ہیں۔سیالکوٹ کی جماعت کو میں ہدایت کرتا ہوں کہ گورداسپور اور کئی جگہوں کے زمیندار وہاں بٹھائے جار ہے ہیں ان میں سے بھی اکثروں کے پاس کوئی کپڑا وغیرہ نہیں جو پہلے بھاگ آئے ان کے پاس کچھ کپڑے ہیں مگر جو بعد میں آئے ہیں ان کے پاس کوئی کپڑا نہیں۔