خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 257 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 257

257 کام کے لئے باہر جانا پڑتا ہے۔گو ایسے لوگوں کے لئے بھی میرے نزدیک کوئی نہ کوئی ایسا انتظام ضرور ہونا چاہئے جس کے ماتحت وہ اپنی قریب ترین مسجد میں نماز باجماعت پڑھ سکیں۔اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس تو اکثر جگہ قائم ہی ہیں۔اب انہیں ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لئے مجالس انصاراللہ قائم کرنی چاہئیں۔ان مجالس کے وہی قواعد ہوں گے جو قادیان میں مجلس انصار اللہ کے قواعد ہوں گے۔مگر سر دست باہر کی جماعتوں میں داخلہ فرض کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ ان مجالس میں شامل ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہوگا۔لیکن جو پریذیڈنٹ یا امیر یا سیکرٹری ہیں ان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں۔کوئی امیر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔کوئی پریذیڈنٹ نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو اور کوئی سیکرٹری نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ یا خدام الاحمدیہ کا مبر نہ ہو۔اگر اس کی عمر پندرہ سال سے اوپر اور چالیس سال سے کم ہے تو اس کے لئے خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا اور اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کے لئے انصار اللہ کا مہر ہونا ضروری ہوگا۔اس طرح ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجالس میں شامل ہونا لازمی کر دیا جائے گا۔الفضل یکم اگست 1940 ء ) مجلس انصار اللہ کی تنظیم بھی اب عالمگیر شکل اختیار کر چکی ہے اور تمام دنیا میں احمدیت اور انسانیت کی خاطر قابل رشک خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ذیلی تنظیموں کا ملک وارصدارتی نظام 1989ء تک تمام تنظیمیں ساری دنیا میں مرکز سلسلہ ربوہ کی راہنمائی میں کام کرتی تھیں اور مرکزی طور پر ان کے صدران حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف سے مقرر کئے جاتے تھے۔3 نومبر 1989 ء کو حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے ذیلی تنظیموں کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے ہر ملک میں الگ الگ صدارت کے قیام کا اعلان فرمایا۔