خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 240
240 تربیت کی جارہی ہے۔اس وقت احمد یہ بورڈنگ ہاؤس میں 45 طالب علم رہائش پذیر ہیں۔بورڈنگ ہاؤس مٹھی ، نگر پارکر اور دانو داندل میں ہیں اس علاقہ میں بچوں کے لئے چار پرائمری سکول جاری کئے گئے ہیں جن میں 105 طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔نگر پارکر میں بیت الذکر کے قریب چند خاندانوں کو آباد کیا گیا ہے تا کہ ان کی دینی رنگ میں تعلیم و تربیت کی جاسکے۔جس کے بڑے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ 8 بیوت الذکر قائم ہیں اور 3 سینٹرز میں ایم۔ٹی۔اے دکھانے کا انتظام ہے باقی سینٹروں میں کیسٹس کے ذریعے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ سنایا جاتا ہے۔معلمین اس علاقہ میں اصلاح وارشاد کے علاوہ طبی خدمات بھی سرانجام دیتے ہیں۔جس سے ان لوگوں سے ایک تعلق قائم ہو جاتا ہے اور وہ غور سے معلمین کی باتیں سنتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔اس علاقہ میں طبی ضروریات کے لئے ایک ڈسپنسری قائم ہے جہاں سے مفت اور برائے نام قیمت پر دوائی مہیا کی جاتی ہے۔دور دراز کے علاقوں میں طبی خدمت کے لئے ایک آٹو موبائل ڈسپنسری جاری کی ہوئی ہے جس سے اس علاقہ کی بہت خدمت کی جارہی ہے اور اس علاقہ میں ایک بہت اچھا اثر ہو رہا ہے۔اب تو مٹھی میں پچاس بستروں کا المہدی ہسپتال جدید سہولتوں سے آراستہ اس علاقہ کے لوگوں کی خدمت میں مصروف ہے۔اس میں دو ڈاکٹرز اور ایک لیڈی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔اس علاقہ میں ہندو مہا جن بہت چھایا ہوا ہے۔وہ ان لوگوں کو ضروریات کے لئے قرض دیتا ہے اور یہ سود در سود چڑھتا رہتا ہے اور ہر سال مہاجن آکر ان کی تمام فصل اور مویشی بھی لے جاتا ہے۔مگر قرض ختم نہیں ہوتا۔وقف جدید نے اس طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے کہ فصل کی کاشت کے موقعہ پر ان لوگوں کو بی ادھار دیا جاتا ہے جس سے یہ بننے کے قرض سے بچ جاتے ہیں فصل پک جانے کے بعد یہ رقم یا بیچ واپس کر دیتے ہیں۔جس سے ان لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو رہے ہیں کہ اصل ہمدرد تو ہماری یہی جماعت ہے جو ہمارا مختلف طریقوں سے خیال رکھتی ہے۔1986ء میں علاقے میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے شدید قحط سالی پیدا ہو گئی کیونکہ یہ لوگ بارش کا جمع کیا ہوا پانی پیتے ہیں اس لئے بارش نہ ہونے کی وجہ سے پینے کے پانی کی بھی قلت ہوگئی۔یہ قحط اتنا شدید تھا بھوک کی وجہ سے مویشی موت کا شکار ہونے لگے اور بعض جگہ بھوک کی وجہ سے انسانی اموات کی اطلاع بھی موصول ہوئی۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی منظوری سے اس علاقہ میں ہنگامی بنیادوں