خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 203 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 203

203 لاکھ روپیہ بنتا ہے پھر ان کی کتب کو شائع کرنے کے لئے ایک مبلغ کی ضرورت ہے جس کے لئے ادنیٰ اندازہ دولاکھ کا ہے اس کے علاوہ پانچ لاکھ روپیہ انداز ا اس بات کے لئے چاہئے کہ جو تصنیفات وہ تیار کریں ان کو شائع کیا جائے اور پھر ایسا انتظام کیا جائے کہ نفع کے ساتھ وہ سرمایہ دا پس آتا جائے اور دارالمصنفین کا گزارہ اس کی آمد پر ہو۔یہ وہ صیح طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم علمی دنیا میں ہیجان پیدا کر سکتے ہیں اور اس کام کے لئے پچیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے“۔(الفضل یکم مئی 1945ء) ربوہ کا قیام 1947 ء میں تقسیم ہند کے بعد حضور نے جماعت کے نئے مرکز ربوہ کی بنیا دابراہیمی دعاؤں کے ساتھ رکھی اور اس کو ایک مثالی شہر بنانے کے لئے کئی تحریکیں کیں۔ربوہ میں مکان بنانے اور مثالی شہر بنانے کی تحریک حضور نے فرمایا:۔احباب جماعت کو آئندہ نئے مرکز میں بار بار آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بار بار آنے سے نہ صرف یہ کہ مرکز سے ان کا تعلق مضبوط ہوگا بلکہ وہ ترقی کی سکیموں اور اسلامی خدمات کے سلسلہ میں دیگر جماعتی سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر رہیں گے اور ان کا کثرت کے ساتھ یہاں آنا ان کے ایمان اور اخلاص میں ترقی کا موجب ثابت ہوگا“۔ربوہ میں زمین خرید کر مستقل رہائش اختیار کرنے والوں کو حضور نے ہدایت فرمائی کہ ہم اس مرکز کو اسلامی تہذیب و تمدن اور معاشرت کا ایک نمونہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے جو لوگ بھی مکان بنا کر مستقل طور پر یہاں رہنا چاہیں گے انہیں بعض شرائط اور قواعد وضوابط کی پابندی کرنی ہوگی۔مثلاً ہر شخص کو خواہ اس کی تجارت کا نقصان ہو یا اس کے کاروبار پر اس کا اثر پڑے سال میں ایک ماہ خدمت دین کے لئے ضرور وقف کرنا ہوگا۔ہر بچے اور بچی کو سکول میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کرنی ہوگی۔ہر فرد بشر کے لئے اسلامی اخلاق کو اس درجہ اپنانا ضروری ہوگا کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بن سکے۔مثلاً نماز با جماعت کی پابندی اور داڑھی رکھنا وغیرہ۔( الفضل 20 راپریل 1949 ء )