خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 199 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 199

199 کر رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی باتیں سن کر فرمایا۔حکیم صاحب کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ منارہ کی تعمیر کو ملتوی کر دیا جائے۔چنانچہ ملتوی کر دیا گیا۔ایک تو وہ وقت تھا اور ایک آج ہے کہ مسجد مبارک کی توسیع کے لئے عصر کی نماز کے وقت میں نے مقتدیوں سے ذکر کیا اور عشاء کی نماز سے پہلے پہلے 18 ہزار کے وعدے اور رقوم جمع ہو گئیں اور بیرونی احباب کو اس چندہ میں شریک ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔یہ نشان کسی نابینا کو نظر نہ آئے۔مگر ہر بینا کو نظر آرہا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو بڑھارہا اور سامان پیدا کرتا جارہا ہے کہ اس وقت جو بات بہت بڑی معلوم ہوتی تھی۔آج بہت ہی معمولی اور حقیرسی نظر آتی ہے اور آج جو چیز بہت بڑی معلوم ہوتی ہے وہ کل حقیر ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کا یہی سلوک ہماری جماعت سے برابر چلا جارہا ہے اور اس بات کا خیال کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح دل بھر آتا ہے اور آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ کاش جماعت کی یہ ترقی حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہوتی تا آپ بھی اس دنیا میں اپنے کام کے خوشکن نتائج دیکھ لیتے۔(یہ فرماتے فرماتے حضور پر بیحد رقت طاری ہوگئی پھر تھوڑی دیر توقف کے بعد فرمایا ) اس تجویز کا اصل مقصد کا نفرنس منعقد کرنا ہے جس میں ہر مذہب کے نمائندے اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔سب کمیٹی نے اس کے لئے دو ہزار روپے تجویز کئے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ جو دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہیں نام لکھا دیں۔چنانچہ ایک مخلص نے دو ہزار روپیہ دینے کا اعلان کر دیا۔اس کے بعد بعض اصحاب نے خود بخود در قوم پیش کرنی شروع کر دیں جس پر حضور نے فرمایا:۔” دوستوں نے چندہ دینا شروع کر دیا ہے اور اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔مجھ پر جو اس وقت وجد کی حالت طاری ہوئی اور میں سجدہ میں گر گیا۔اس کی وجہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے حالات اور بعد کے حالات کا فرق ہے۔اس وقت دو ہزار روپیہ کا جو سوال ہے وہ تو ایک دوست نے پورا کر دیا ہے اور وہ کیا اس سے بہت زیادہ چندہ ہوسکتا ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس تجویز کے پیچھے جذ بہ کیا کارفرما ہے۔یہی کہ باہر سے کتنے آدمی آسکیں گے۔چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اب ہیں پچیس ہزار احمدی ہی جلسہ پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ان حالات میں چاہئے کہ ہم ایک ایسا ہال بنائیں