خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 191 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 191

فرمایا:۔191 قادیان میں آنا دو موقعوں پر بڑا ضروری ہوتا ہے۔ایک جلسہ کے موقع پر۔وہ خاص برکات کے نزول کا اور وعظ ونصیحت اور دوستوں سے ملنے کا موقع ہوتا ہے اور ایک کسی ایسے موقعہ پر جب لوگوں کا زیادہ ہجوم نہ ہو۔تا کہ ذاتی تعارف پیدا ہو سکے۔ہجوم کے دنوں میں اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ ہر شخص سے الگ الگ ملاقات کی جائے۔یا اس کی طرف خاص توجہ کی جائے۔پس دونوں ہی موقعوں پر آپ کو ایک دفعہ آنا چاہئے۔ایک دفعہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اکثر لوگ ایک دفعہ آ کر پھر آتے ہی رہتے ہیں“۔(الفضل 13 اکتوبر 1998 ء ) قادیان میں مکان بنانے کی تحریک سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ 1931ء پر جماعت کو تحریک فرمائی کہ وہ قادیان میں مکان بنائیں تا قادیان کو وسعت حاصل ہو اور اس مقام کی ظاہری عظمت بھی قائم ہو۔نیز بتایا کہ اس کے لئے میں نے بھی ایک سکیم بنائی ہے اور خطوط کے ذریعہ شائع کی گئی ہے جو یہ ہے کہ ایک حصہ پچیس روپے ماہوار کا رکھا گیا ہے کل حصے ایک سو بیس رکھے گئے ہیں۔ایک شخص ایک یا زیادہ حصے لے سکتا ہے۔اس طرح جو روپیہ جمع ہو وہ قرعہ ڈال کر ہر مہینے ایک دوست کو دے دیا جائے جو مکان بنالے اس طرح ایک سو ہمیں حصوں کے مکان نئے اور اچھے بن جائیں گے۔پہلے ڈیڑھ سال تک کوئی قرعہ نہیں ڈالا جائے گا تا کہ اس طرح جور تم جمع ہو اس سے زمین خرید لی جائے اس کے بعد ہر مہینے قرعہ ڈالا جائے گا اور جس کے نام نکلے گا اس سے یہ شرط ہوگی کہ روپیہ مکان بنانے پر ہی خرچ کیا جائے۔حضور کی اس تحریک پر متعدد خلصین جماعت نے لبیک کہا اور اس سکیم کے مطابق حضرت مسیح موعود کی ایک پیشگوئی پوری کرنے کے لئے قادیان کی پرانی آبادی کے مشرق کی طرف ایک نیا محلہ دارالا نوار کے نام سے آباد کیا گیا۔جس کی بنیا د حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے 4 اپریل 1932 ء کو رکھی اور 25 اپریل 1932ء کو اپنی کوٹھی دار الحمد کی بنیادی اینٹ رکھی جو اس نئے محلہ کی پہلی عمارت تھی۔دار الحمد کی عمارت دسمبر 1932ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی اور 15 جنوری 1933ء کو حضور نے بطور افتتاح ایک سو روپیہ غربا میں پار چات تقسیم کرنے کے لئے عطا فرمایا۔حضور نے 27 دسمبر 1932 ء کو