خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 186 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 186

186 آج ہم میں سے ہر شخص بڑے سے بڑا محدث ہوتا۔بڑے سے بڑا مفسر قرآن ہوتا۔بڑے سے بڑا عالم دین ہوتا اور کسی کے دل میں یہ احساس تک پیدا نہ ہوتا کہ اب جماعت کا کیا بنے گا ؟ ہمارے لئے یہ خطرہ کی بات نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ اول بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی عبدالکریم صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی برہان الدین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا حافظ روشن علی صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا قاضی امیر حسین بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا میر محمد الحق صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے۔بلکہ ہمارے لئے خطرہ کی بات یہ ہے کہ جماعت کسی وقت بحیثیت جماعت مر جائے اور ایک عالم کی جگہ دوسرا عالم ہمیں اپنی جماعت میں دکھائی نہ دے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1944ءص174 تا178) اس سلسلہ میں حضور نے عملی طور پر بھی کئی اہم اقدامات اٹھائے۔خصوصی تعلیم کے لئے واقفین کا انتخاب یکم فروری 1945ء کو حضور نے دار الواقفین کے تمام ممبران کو قصر خلافت میں شرف باریابی بخشا۔ازاں بعد حضور نے 22 واقفین کو بیرونی ممالک میں بھجوانے اور 9 واقفین کو تفسیر، حدیث، فقہ اور فلسفہ و منطق کی اعلی تعلیم دلانے کے لئے منتخب فرمایا تا وہ سلسلہ کے بزرگ علماء کے قائم مقام بن سکیں۔حصول تعلیم خاص کے لئے مندرجہ ذیل واقفین منتخب کئے گئے۔مولوی نور الحق صاحب ( تفسیر )۔ملک سیف الرحمن صاحب ( فقه )۔مولوی محمد صدیق صاحب ( حدیث )۔مولوی محمد احمد صاحب جلیل (حدیث )۔مولوی محمد احمد صاحب ثاقب ( فقه )۔مولوی غلام باری صاحب سیف (حدیث) - حکیم محمد اسماعیل صاحب (منطق و فلسفہ )۔حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب ( تفسیر )۔ملک مبارک احمد صاحب ( منطق و فلسفه ) ازاں بعد مولوی خورشید احمد صاحب شاد بھی اس زمرہ میں شامل کر لئے گئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کو حدیث شریف کی خصوصی تعلیم کا ارشاد فرمایا۔مندرجہ بالا واقفین مئی 1947 ء میں فارغ التحصیل ہوئے جس کا ذکر خود حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے 6 جون 1947 ء کے خطبہ جمعہ میں کیا۔چنانچہ فرمایا:۔