خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 3 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 3

3 دور خلافت کا منشور حضرت خلیفہ المسیح الاول سیرت صدیقی کے حامل تھے۔آپ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلے انہی امور پر توجہ مرکوز کی جو حضرت ابو بکر نے زیر نظر رکھے تھے اور رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود کی بعثت کے مقاصد کو پورا کرنے والے تھے۔چنانچہ آپ نے بیعت لینے سے قبل جو خطاب فرمایا اس میں گویا اپنے دور خلافت کا منشور بیان کر دیا۔جو کئی تحریکات پر مشتمل تھا۔آپ نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے بعد ابو بکر کے زمانہ میں صحابہ کرام کو بہت سی مساعی جمیلہ کرنی پڑیں۔سب سے اہم کام جو کیا وہ جمع قرآن ہے اب موجودہ صورت میں جمع یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کرنے کی طرف خاص توجہ ہو۔پھر حضرت ابو بکڑ نے زکوۃ کا انتظام کیا۔یہ ایک بڑا عظیم الشان کام ہے۔انتظام زکوۃ کے لئے اعلیٰ درجے کی فرمانبرداری کی ضرورت ہے۔پھر کنبہ کی پرورش ہے۔غرض کئی ایسے کام ہیں۔اب تمہاری طبیعتوں کے رخ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہا اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتاً فوقتا اللہ میرے دل میں ڈالے کو شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا: ولتكن منكم امة يدعون الى الخير - یا درکھوساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس قوم کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی۔( بدر 2 جون 1908 ص 8 جن الفاظ میں حضرت خلیفۃ ابیح الاول نے بیعت لی وہ یہ تھے:۔خلیفة " آج میں نورالدین کے ہاتھ پر تمام ان شرائط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں جن شرائط سے مسیح موعود اور مہدی معہود بیعت لیا کرتے تھے اور نیز اقرار کرتا ہوں کہ خصوصیت سے قرآن وسنت اور احادیث