خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 165
165 گئی ہے اور اس کا خرچ مسجد بنا کر قریباً اڑھائی پونے تین لاکھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کے ذمہ لگایا گیا تھا۔مسجد ہالینڈ کا اس کی ساری رقم زمین وغیرہ ملا کر کوئی اسی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے۔انہوں نے اپنے اسی ہزار میں سے چھیالیس ہزار روپیہ ادا کر دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو توجہ دلانے کی اتنی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہ وہ میری اس مختصری تحریک سے ہی اپنے فرض کو سمجھنے لگ جائیں گی اور اس نیک کام کو تکمیل تک پہنچا دیں گی۔میں عورتوں سے کہتا ہوں تمہاری قربانی مردوں سے اس وقت بڑھی ہوئی ہے۔اپنی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دفتر کے قرضہ کو بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ مسجد ہالینڈ کو بھی نہ بھولنا۔اس کے لئے ابھی کوئی پچاس ہزار روپیہ کے قریب ضرورت ہے۔ہمارا پہلا اندازہ مکان اور مسجد کی تعمیر کا تمیں ہزار کے قریب تھا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے کم میں وہ جگہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کچھ قیود ہیں اور وہ ایک خاص قسم کی اور خاص شان کی عمارت بنانے کی وہاں اجازت دیتے ہیں اس سے کم نہیں دیتے۔پس زمین کی قیمت مل کر نوے ہزار سے ایک لاکھ تک کا خرچ ہوگا جس میں سے وہ بفضلہ چھیالیس ہزار تک اس وقت تک ادا کر چکی ہیں۔( الفضل 2 جنوری 1952ء) چنانچہ 12 فروری 1955ء کو کھدائی کا کام شروع کیا گیا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے دعا کرائی اور کدال چلا کر کام کا آغاز کیا۔20 مئی 1955ء کو حضرت چوہدری صاحب نے ہی مسجد کا سنگ بنیا درکھا۔9 دسمبر کو 1955ء کو حضرت چوہدری صاحب نے ہی اس کا افتتاح فرمایا۔(الفضل 13 دسمبر 1955 ء ) ہالینڈ میں مسجد کی تعمیر کو غلبہ اسلام کی شاہراہ میں ہمیشہ سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے گی۔اس سرزمین میں خانہ خدا کی اہمیت کو ہالینڈ کے اونچے طبقے نے خاص طور پر محسوس کیا ہے چنانچہ ہیگ کا ایک کثیر الاشاعت روزنامہ "Nieuwe Heagse Courant" نے مسجد ہیگ میں نماز کی حالت کا ایک بڑا سا فوٹو دیتے ہوئے لکھا کہ:۔یہ فوٹو کراچی، قاہرہ یا بغداد کی نہیں بلکہ یہ مسجد خود ہیگ میں ہے جس میں لوگ نماز ادا کر رہے ہیں۔تکمیل مسجد کے لئے مزید چندہ کی تحریک: مسجد ہالینڈ پر چونکہ اندازہ سے زیادہ خرچ ہو چکا تھا اس لئے حضرت مصلح موعود نے احمدی خواتین کو