خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 163
163 روپیہ چندہ مسجد کے لئے دیا ہے اور ان میں سے بعض نے تحریک کی ہے کہ اس چندہ کو ڈبل کیا جائے گویا ایک لاکھ میں ہزار کے قریب ایک جگہ بھی انہوں نے مسجد کے لئے تجویز کی ہے جو امید ہے ساٹھ پینسٹھ ہزار میں مل جائے گی۔ایک اور ٹکٹڑ از مین کا شہر کے اندر ہے مگر اس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہے میں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ شہر کے باہر کے علاقہ میں بنائیں۔باہر کے علاقہ میں تبلیغ میں سہولت ہوتی ہے وہاں مخالفت بھی بڑی ہوتی ہے تو اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے کلکتہ میں سامان ہورہا ہے اور جماعت نے 66 ہزار روپیہ جمع کر دیا ہے۔بمبئی میں ابھی جگہ خریدی نہیں گئی مگر وہاں بھی سامان ہو رہا ہے۔وہاں قبرستان کے لئے بھی جگہ حاصل کی جارہی ہے۔بعض ممبروں کے دستخط بھی ہو چکے ہیں۔صرف ایک کے باقی ہیں۔فی الحال بمبئی میں زمین خریدنے کے لئے روپیہ مرکز سے بھجوایا گیا ہے۔پشاور میں پہلے سے مسجد ہے مگر چھوٹی ہے وہاں مبلغ کے لئے مکان اور لیکچر ہال کی بھی ضرورت ہے اور میں صوبہ سرحد کے احمدیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ کسی ایسی جگہ کا خیال رکھیں جہاں پاس آبادی بھی ہوا اور جگہ کھلی مل سکے تا اگر ہو سکے تو وہاں عربی مدرسہ بھی جاری کیا جا سکے۔لا ہور میں بھی اچھے موقع پر سات ایکڑ زمین خرید لی گئی ہے مگر اب حکومت کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتی ہے کوشش کی جائے گی کہ وہ واپس نہ لے۔۔۔حیدر آباد بھی ہندوستان میں ایک اہم جگہ ہے سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور انہوں نے 30,25 ہزار روپیہ صرف کر کے وہاں ایک احمد یہ جو بلی ہال تعمیر کرایا ہے۔ہے تو وہ مسجد ہی مگر کہلاتی ہال ہے اب انہوں نے اسے اور بڑا کر دیا ہے اور وہ اب تک اس پر قریباً پچاس ہزار روپیہ خرچ کر چکے ہیں۔انوار العلوم جلد 17 ص 486) تعمیر مسجد مبارک ربوہ کی تحریک مورخہ 3 /اکتوبر 1949ء کو بعد نماز عصر حضرت مصلح موعودؓ نے مسجد مبارک ربوہ کی بنیادی اینٹ اپنے دست مبارک سے رکھی۔اس موقع پر حضور نے احباب جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔چونکہ یہ ایک مرکزی مقام ہے اور ساری دنیا کے لوگوں سے اس کا تعلق ہے اس لئے ساری دنیا