خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 152 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 152

152 حضور نے مسجد کے لئے 30 ہزار روپیہ کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔یہ موقع اس کام کے لئے سب سے بہتر ہے کیونکہ اس وقت پونڈ کی قیمت گری ہوئی ہے اور ہم اگر یہاں سے دس روپے بھیجیں تو ولایت میں اس کے بدلہ میں ایک پاؤ نڈ مل جاتا ہے۔گویا اس وقت روپیہ بھیجنے سے ہمیں ڈیوڑھا روپیہ ملنے کی امید ہے۔پس ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی ماہ میں ایک معقول رقم جس کا اندازہ نہیں ہزار کیا جاتا ہے۔مسجد لندن کے لئے یہاں سے بھجوا دی جائے جو امید ہے کہ وہاں پچاس ہزار کے قریب ہو جاوے گی اور اس سے ایک گزارہ کے قابل مسجد اور مختصر مکان بن سکے گا اور میں اس اعلان کے ذریعہ تمام احمدی احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد اس رقم کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اپنے اپنے چندے فوراً بھجوا دیں تا کہ اسی ماہ ولایت روانہ کئے ا (انوار العلوم جلد 5 ص 3) جاسکیں“۔حضور نے یہ مضمون تحریر فرمایا اور اشاعت سے قبل 7 جنوری 1920ء کو اہل قادیان کو ایک خطاب کے ذریعہ مسجد لندن کے لئے تحریک فرمائی تو فوری طور پر 5 ہزار کے قریب چندہ قادیان سے ہی ہوا تھا۔حضور فرماتے ہیں:۔دوسرے دن پھر عورتوں اور مردوں میں تحریک کی تو چندہ کی مقدار گیارہ ہزار سے بھی بڑھ گئی اور بارہ ہزار کے قریب پہنچ گئی۔جس میں سے سات ہزار وصول بھی ہو چکا ہے اور باقی بہت جلد وصول ہو جائے گا۔اس غریب جماعت سے اس قدر چندہ کی وصولی خاص تائید الہی کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے۔ان دنوں میں قادیان کے لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا ہو۔اخلاص تو نیا نہیں پیدا ہوتا۔وہ تو دل میں پہلے سے ہوتا ہے مگر اس کے اظہار کا یہ ایک خاص موقع تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کے احمدیوں کا اخلاص ابلنے کے درجہ پر پہلے سے پہنچا ہوا تھا اور صرف بہانہ ڈھونڈ رہا تھا اور جماعت کے اس ولولہ کو دیکھتے ہوئے حضور نے چندہ کی رقم 30 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کر دی۔(انوار العلوم جلد 5 ص7,5) اس تحریک کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیابی کی بشارت اور راہنمائی سے بھی نوازا۔فرمایا:۔” مجھے خدا تعالی کی رویت ہوئی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام مقبول ہے جہاں تک مجھے یاد