خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 135 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 135

135 تحریک جدید وسعت اور جامعیت: خلفائے احمدیت کی تحریکات میں تحریک جدید کو ایک نمایاں اہمیت اور امتیاز حاصل ہے۔اپنی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے یہ قریباً تمام تربیتی تبلیغی اور مالی تحریکات کا بہترین نچوڑ ہے۔خاص طور پر تحریک جدید سے قبل سرزمین احمدیت میں دعوت الی اللہ کے جتنے چشمے پھوٹے رواں ہوئے ان سب کو تحریک جدید کی جھیل میں اکٹھا کر کے دعوت حق کی بیشمار نہریں جاری کی گئیں جو آج شاخ در شاخ دنیا کے ہر خطے میں پھیل گئی ہیں۔اس کی کوکھ سے سینکڑوں نئی تحریکات نے جنم لیا۔جن میں سے بعض اس کے اثرات کو چار دانگ عالم میں پھیلانے کے لئے تھیں اور بعض اس کے ثمرات کو سمیٹنے کے لئے تھیں۔تاریخ احمدیت میں تحریک جدید اس پھل کی حیثیت رکھتی ہے جو اپنے سینے میں طاقتور بیج جمع کئے ہوئے ہے۔جن سے نئے رسیلے پھل پیدا ہوتے ہیں جگہ جگہ ہوتے ہیں مگر بسا اوقات یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ پھل کس پیج کا مرہون منت ہے۔نظام وصیت کی ارہاص: تحریک جدید گو نظام وصیت کے ایک عرصہ بعد ظہور پذیر ہوئی لیکن دراصل یہ حضرت اقدس مسیح موعود کے قائم کردہ عالمی ابدی نظام کی ارباص ہے۔کیونکہ تحریک جدید احمدیت میں داخل کرنے کا ایک دروازہ ہے جس کے ذریعہ نظام جماعت میں شامل ہونے والے نظام وصیت کا حصہ بنتے ہیں اور پھر تحریک جدید کے فیض سے دعوت الی اللہ میں حصہ لے کر نئے موصی پیدا کرتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔تحریک جدید کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس کے آنے میں ابھی دیر ہے اس لئے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں تا کہ اس وقت تک کہ وصیت کا نظام مضبوط ہو اس ذریعہ سے جو مرکزی جائیداد پیدا ہو اس سے تبلیغ کو وسیع کیا جائے اور تبلیغ سے