خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 89 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 89

89 بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں مگر ہماری زندگی تو کلیۂ دین کی خدمت اور اسلام کے احیاء کے لئے الفضل 14 مارچ 1944 ءص1) وقف ہونی چاہئے۔اس تحریک وقف پر سب سے پہلے حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے لبیک کہا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود نے انہی دنوں فرمایا:۔”سب سے پہلے ہمارے خاندان میں سے عزیزم مرزا ناصر احمد نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا“۔الفضل 12 جنوری 1945 ء ص 3 کالم 2) سیدنا حضرت المصلح الموعودؓ نے اپنے سب بچوں کو وقف فرما دیا اور اپنی جیب سے ان کے تعلیمی اخراجات ادا فرمائے اور اس کے بعد ان کو سلسلہ احمدیہ کے سپرد فرما دیا۔چنانچہ حضور نے ایک بار فرمایا بر ”میں نے اپنا ہر ایک بچہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔میاں ناصر احمد وقف ہیں اور دین کا کام کر رہے ہیں۔چھوٹا بھی وقف ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس طرح دین کے کام پر لگایا جائے۔اس سے چھوٹا ڈا کٹر ہے۔وہ امتحان پاس کر چکا ہے اور اب ٹریننگ حاصل کر رہا تا سلسلہ کی خدمت کر سکے۔باقی چھوٹے پڑھ رہے ہیں اور وہ سب بھی دین کے لئے پڑھ رہے ہیں۔میرے تیرہ لڑکے ہیں اور تیرہ کے تیرہ دین کے لئے وقف ہیں۔( تاریخ احمد بہت جلد 8 ص 50) اپنے سارے بیٹوں کو خدمت دین کے لئے وقف کرنے کے بعد سید نا حضرت اصلح الموعود نے اپنی زندگی میں ان کی تعلیم وتربیت سے متعلق امور کو نہایت توجہ اور حکمت سے ادا فرمایا۔اس ضمن میں حضور نے خود ایک موقع پر اپنے ایک بیٹے سے متعلق ایک واقعہ بیان فرمایا جو خصوصاً واقفین زندگی کے لئے مشعل راہ کا کام دیتار ہے گا۔فرمایا:۔”میرے ایک بچہ نے ایک دفعہ ایک جائز امر کی خواہش کی تو میں نے اسے لکھا کہ یہ بیشک جائز ہے مگر تم یہ سمجھ لو کہ تم نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور تم نے دین کی خدمت کا کام کرنا ہے اور یہ امر تمہارے لئے اتنا بوجھ ہو جائے گا کہ تم دین کی خدمت کے رستہ میں اسے نباہ نہیں سکو گے اور یہ تمہارے رستہ میں مشکل پیدا کر دے گا۔الفضل 29 نومبر 1934 ء) فرمایا: ”آخر میرے تیرہ بیٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں یا نہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں