خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 74
74 عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم ع ل و ل ﷺ کی کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہوں۔الفضل یکم جولائی 1927 ء ص 3 انوار العلوم جلد 9 ص 559 اس مقدمہ میں وکالت کے لئے مسلمان وکلاء نے متفقہ طور پر چودھری ظفر اللہ خان صاحب کا نام تجویز کیا اور آپ ہی مقدمہ میں پیش ہوئے اور ایسی قابلیت اور عمدگی سے وکالت کی کہ سب مسلمانوں نے آپ کو خراج تحسین ادا کیا۔جسٹس براڈوے نے سید دلاور شاہ صاحب بخاری، مولوی نورالحق صاحب کے بیانات اور چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی بحث سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ:۔میں سید بخاری کو چھ ماہ قید محض اور ساڑھے سات سو روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی چھ ہفتہ مزید قید محض کی سزا دیتا ہوں اور مولوی نور الحق کو 3 ماہ قید محض ہزار روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادا ئیگی مزید ایک ماہ قید محض کا حکم سناتا ہوں۔تمام جوں نے اس سزا سے اتفاق کیا۔(الفضل یکم جولائی 1927ء۔انوار العلوم جلد 9 ص 560) عدالتی فیصلہ پر مسلمانان ہند کا قومی دماغ سخت پریشان ہو گیا اور مسلمان اس وقت متفق طور پر یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ اب انہیں کیا اقدام کرنا چاہئے ایک فریق نے یہ علاج سوچا کہ عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔دوسرے فریق نے کہا کہ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر کی طرح دوسرے مسلمان بھی تو ہین عدالت کے جرم کا تکرار کریں۔آخر کتنے مسلمانوں کو جیل خانہ میں ڈالا جاسکے گا۔تیسرے فریق نے یہ تجویز بتائی کہ ملک میں سول نافرمانی شروع کر دی جائے۔مگر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ان سب تدبیروں کو پر زور دلائل سے بے فائدہ بلکہ مسلم مفادات کے اعتبار سے انتہائی نقصان دہ اور ضرر رساں ثابت کیا اور اس نازک ترین وقت میں جبکہ مسلمانوں اور اسلام کی زندگی اور موت کا سوال در پیش تھا مسلمانوں کی فرمائی اور تحفظ ناموس رسول ﷺ کے لئے ایک پر امن مگر موثر عملی تحریک کا آغاز کر دیا۔اس سلسلہ میں حضور نے ابتدائی مرحلہ پر فوری رنگ میں یہ تجویز کی کہ مسلم آؤٹ لک کے مدیرو مالک کی قید کے پورے ایک ماہ بعد یعنی 22 جولائی 1927ء کو جمعہ کے دن ہر مقام پر جلسے کئے جائیں