خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 69
69 عربی سیکھنے کی تحریک قرآن سیکھنے کے لئے عربی جانا اول قدم ہے اس لئے حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے عربی زبان کی ترویج کی طرف خاص توجہ فرمائی اور 19 جون 1944 ء کو خطبہ جمعہ کے علاوہ مجلس عرفان میں فرمایا۔عربی زبان کا مردوں اور عورتوں میں شوق پیدا کرنے اور اس زبان میں لوگوں کے اندر گفتگو کا ملکہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ۔۔۔ایک عربی بول چال کے متعلق رسالہ لکھیں۔حضرت مسیح موعود نے بھی عربی کے بعض فقرے تجویز فرمائے تھے جن کو میں نے رسالہ تفخیذ الاذہان میں شائع کر دیا تھا۔ان فقروں کو بھی اپنے سامنے رکھ لیا جائے اور تبرک کے طور پر ان فقرات کو بھی رسالہ میں شامل کر لیا جائے۔در حقیقت وہ ایک طریق ہے جو حضرت مسیح موعود نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس راستہ پر چلیں اور اپنی جماعت میں عربی زبان کی ترویج کی کوشش کریں۔میرے خیال میں اس میں اس قسم کے فقرات ہونے چاہئیں کہ جب ایک دوست دوسرے دوست سے ملتا ہے تو کیا کہتا ہے اور کس طرح آپس میں باتیں ہوتی ہیں۔وہ باتیں تربیت کے ساتھ لکھی جائیں۔پھر مثلاً انسان اپنے گھر جاتا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کے متعلق اپنی ماں سے یا کسی ملازم سے گفتگو کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے کھانے کے لئے کیا پکا ہے یا کون سی تر کاری تیار ہے؟ اس طرح کی روزمرہ کی باتیں رسالہ کی صورت میں شائع کی جائیں۔بعد میں محلوں میں اس رسالہ کو رائج کیا جائے۔خصوصاً لڑکیوں کے نصاب تعلیم میں اس کو شامل کیا جائے اور تحریک کی جائے کہ طلباء جب بھی ایک دوسرے سے گفتگو کریں عربی زبان میں کریں۔اس طرح عربی بول چال کا عام رواج خدا تعالیٰ کے فضل سے پیدا کیا جاسکتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں نے ایک مردہ زبان کو اپنی کوشش سے زندہ کر دیا ہے۔عبرانی زبان دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں۔لیکن لاکھوں کروڑوں یہودی عبرانی زبان بولتے ہیں۔اگر یہودی ایک مردہ زبان کو زندہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی زبان جو ایک زندہ زبان ہے اس کا چرچا نہ ہو سکے۔پہلے قادیان میں اس طریق کو رائج کیا جائے۔پھر بیرونی جماعتوں میں یہ طریق جاری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔چھوٹے چھوٹے آسان فقرے ہوں جو بچوں کو بھی یاد کرائے جاسکتے ہیں۔اس کے بعد